
حکومت طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئرنئی دہلی،21جولائی(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے جنتر منتر کے قریب احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری آئینی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے سخت منافی ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کے بجائے انھیں پولیس کی جارحانہ کارروائی کانشانہ بنایا گیا۔ ایک جمہوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی آواز کا جواب ہمدردی اور مذاکرات سے دے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرکے، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور اجتماعی گرفتاریوں کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور عام شہریوں پر طاقت کا استعمال ایک نہایت افسوسناک قدم ہے جو جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔نوجوان نسل کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے پروفیسر انجینیئر سلیم نے کہا کہ احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ شفافیت، انصاف اور جوابدہی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔ یہ بات بھی حو صلہ افزا ہے کہ نوجوان سماج سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے جمہوری طریقے سے عوامی مسائل میں اپنا سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کو ہر حال میں پُرامن بنائے رکھیں، ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور نظم و ضبط اور عدم تشدد کے اعلیٰ ترین اصولوں کی پابندی کریں۔ کیونکہ پُرامن اور اصولی تحریکیں زیادہ اخلاقی قوت اور عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے ۔
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انصاف ایک سماجی مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند طلبہ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی اس جدو جہد میں ان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کو بدعنوانیوں سے پاک کرکے ایک بہتر اور قابلِ اعتماد نظام کی تعمیر ہے۔ ہم ارکانِ پارلیمنٹ، اپوزیشن جماعتوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طلبہ کے جائز مطالبات اور امنگوں کی بھرپور حمایت کریں اور مل کر ایسا تعلیمی نظام کو تشکیل دیں جو انصاف، دیانت داری اور مساوی مواقع کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل اس اعتماد پر منحصر ہے جو نوجوان اپنے اداروں پر رکھتے ہیں اور یہ اعتماد صرف انصاف، جوابدہی اور بامعنی اصلاحات کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais