
پروگرام سے پہلے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بائیں بازو والوں کو نشانہ بنایا
کولکاتا، 20 جولائی (ہ س)۔
بنگلہ دیشی نژاد جلاوطن مصنفہ تسلیمہ نسرین تقریباً 18 سال آٹھ ماہ بعد کولکاتا واپس آ رہی ہیں۔ اپنے مجوزہ دورے سے متعلق سوالات کے درمیان، انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں اپنے دورے سے متعلق مختلف مسائل کو واضح کیا گیا۔ انہوں نے اپنے کولکاتا کے دورے کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے جوڑنے والے پروپیگنڈے کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔
تسلیمہ نسرین نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ نہ تو بی جے پی اور نہ ہی مغربی بنگال حکومت نے انہیں کولکاتا آنے کی دعوت دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ایک سماجی تنظیم کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا، جب کہ ریاستی حکومت صرف ان کی حفاظت کا انتظام کر رہی ہے، جو کہ کسی بھی حکومت کی عام انتظامی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بائیں بازو کے کچھ رہنما ان کے دورے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے بی جے پی اور آر ایس ایس سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تسلیمہ نے بتایا کہ انہیں بائیں محاذ کی حکومت کے دور میں 2007 میں کولکاتا چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس کی حکومت نے بھی انہیں مغربی بنگال جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیاتھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ایک ٹیلی ویژن سیریل کی نشریات اور ان کی ایک کتاب کی رونمائی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
تسلیمہ نسرین نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ تعلیم، سائنسی سوچ، خواتین کے مساوی حقوق اور مسلم معاشرے میں مذہبی شدت پسندی کی مخالفت کی حمایت کرتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہی وجہ ہے کہ کچھ خود ساختہ ترقی پسند ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور آزادی اظہار کے معاملے پر دوہرا معیار اپناتے ہیں۔ بائیں بازو کے نظریے پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، یہ بائیں بازو کے دانشور آزاد فکر، لبرل ازم اور رواداری کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دیتے۔ درحقیقت میرا ایک ہی قصور ہے: وہ اسلام کو امن کا مذہب سمجھتے ہیں، جب کہ میں نہیں، وہ اسلام پر تنقید کرنے کے حق کو اظہار رائے کی آزادی کا حصہ نہیں سمجھتے۔ ان کی ساری فراخ دلی اسلام کے دروازے پر آ کر ختم ہو جاتی ہے ۔ مسلم معاشرہ چودہ سو سال قبل کی خواتین مخالف ، شدت پسندی اورعدم برداشت کی ذہنیت باہر نہ نکلے ۔ جو لوگ مسلم معاشرے میں اصلاح چاہتے ہیں انہیں وہ اپنا دشمن مانتے ہیں اور ہم
اور ہم سب جانتے ہیں کہ انہیں اسلامی بنیاد پرستوں کو خوش کرنے میں کوئی پروا نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ میری مغربی بنگال واپسی کے بارے میں بہت غصہ، ناراضگی اور جھوٹا پروپیگنڈہ ہے۔
قابل ذکر ہے کہ تسلیمہ نسرین کا پروگرام یکم اگست کو کولکاتا کے رابندر سدن میں منعقد ہوگا۔ اس ادبی تقریب کا اہتمام سیکولر مشن، انسانی حقوق اور بنگلہ دیش فریڈم فائٹرز فاو¿نڈیشن (آر بی ایف ایف) اور دیگر تنظیموں نے کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ