
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ مانسون اجلاس کے پہلے دن آج مجوزہ پارلیمنٹ مارچ کے پیش نظر قومی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس دوران سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تین شرائط پیش کی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک پوسٹ میں وانگچک نے کہا کہ وہ 20 جولائی کو اپنی بھوک ہڑتال اسی صورت ختم کریں گے جب ان کی تین میں سے کوئی ایک شرط پوری کی جائے۔ دوسری جانب ان کی اہلیہ نے انہیں ایک نجی اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے کے لیے دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ سے رجوع کیا ہے۔
سونم وانگچک کا کہنا ہے کہ وہ اسی وقت بھوک ہڑتال ختم کریں گے جب حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور پرچہ لیک جیسے معاملات کی ذمہ داری قبول کرے۔ یا پھر سی جے پی کی قیادت پارلیمنٹ کے داخلی دروازے تک پہنچ جائے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ انہیں یقین دہانی کرائیں کہ وہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ تیسری صورت میں، اگر وہ صحت یا کسی اور وجہ سے ایسا کرنے کے قابل نہ ہوں، تو مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ اسپتال آ کر انہیں یہی یقین دہانی کرائیں۔
ادھر دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے سکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے جن پتھ، راجیو چوک، پٹیل چوک، سینٹرل سیکریٹریٹ اور سیوا تیرتھ میٹرو اسٹیشنوں کو آئندہ احکامات تک عام مسافروں کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
پارلیمنٹ مارچ کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف کے علاقوں میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ دہلی پولیس، ریپڈ ایکشن فورس اور وجر گاڑیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے اطراف میں بیریکیڈز بھی لگا دیے گئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد