
نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س)۔ تقریباً 20 دنوں سے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونم وانگچککے اسپتال اور اپنی پسند کے ڈاکٹر سے علاج کروانے کا حق کو لیکر 19 جولائی کو جسٹس منی پشکرنا کی سنگل بنچ نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگموکی درخواست پر کوئی حکم دینے سے انکار کر دیاتھا،جس کے بعد سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو نے ہائی کورٹ کی ایک ڈویڑن بنچ میں سنگل بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے ۔
19 جولائی کو ہائی کورٹ نے گیتانجلی انگمو کی عرضی پر کوئی عبوری حکم دینے سے انکار کر دیا اور مرکزی حکومت کو سونم وانگچک کی صحت کے بارے میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سنگل بنچ کے سامنے سماعت کے دوران، گیتانجلی کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ سونم وانگچک کواسپتال اور اپنی پسند کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق ہے۔ عدالت نے پھر سوال کیا کہ وہ سرکاری ڈاکٹروں پر شک کیوں کر رہے ہیں۔ سبل نے جواب دیا، میں سرکاری ڈاکٹروں پر شک نہیں کر رہا ہوں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ سونم وانگچک اور ان کے اہل خانہ کو اسپتال بھیجا جائے اور ان کی پسند کے ڈاکٹر ہوں۔ سبل نے یہ بھی کہا کہ سونم وانگچک کی نگرانی کے لیے پولیس تعینات ہے۔ ان کی اہلیہ اور اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ان سے انتظار کرایا جا رہا ہے۔
مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے اے ایس جی چیتن شرما نے کہا کہ حکومت زندگیاں بچانے کی پابند ہے۔ اگر سونم وانگچک کو کچھ ہوا تو اس کے نتائج ہوں گے۔ شرما نے کہا کہ صدر جمہوریہ اور دیگر اہم شخصیات علاج کے لیے ایمس اور صفدرجنگ جاتے ہیں۔ سماعت کے دوران جائے وقوعہ پر موجود ایمس کے ایک ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں ان پر بھروسہ نہیں ہے۔ یہ صرف اعتماد کی بات ہے۔ سبل نے پھر سوال کیا کہ پولیس والا وہاں کیا کر رہا ہتھا ؟ان کا بلڈ پریشر ہائی تھا۔ کیا وہ مریض کا علاج کر رہا تھا؟ چیتن شرما نے پھر جواب دیا کہ یہ غلط ہے۔ وہاں کوئی پولیس اہلکار موجود نہیں تھا۔
سماعت کے دوران، گیتانجلی نے کہا کہ ہم پوٹاشیم کو لیکر دوسری رائے چاہتے تھے، لیکن اس کے لئے ہمیں منع کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے سیمپل کے لئے کہا تو وہ 12 گھنٹے بعد فراہم کیا گیا۔ جب ہم لیب گئے تو سب بندہوچکا تھا۔ چیتن شرما نے پھر کہا کہ یہ عدالت ہے، سرگرمی کی جگہ نہیں۔ گیتانجلی نے درخواست دائر کی ہے جس میں صفدرجنگ اسپتال سے وانگچک کو فوری طور پر ریلیزکرنے یا انہیں کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوںنے الزام لگایا کہ وانگچک کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے، انہیں ان کے خاندان، وکلاءاور ذاتی ڈاکٹروں سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک کو دہلی پولیس نے 18 جولائی کی صبح جنتر منتر سے اٹھایا اور ان کی رضامندی کے بغیر صفدرجنگ اسپتال لے گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیے بغیر یا گرفتاری یا احتیاطی کارروائی کے عدالتی حکم کے بغیر اسپتال میں مسلسل نظربند رکھناغیر قانونی ہے۔ انہیں صرف پرامن احتجاج سے ہٹانے کے لیے طبی مداخلت کی آڑ میں حراست میں لیا گیا ہے۔
درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کی آڑ میں کام کیا، جس نے سونم وانگچک کی صحت کی مسلسل نگرانی کا حکم دیا تھا۔ انجلی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں نہ تو سونم وانگچک اور نہ ہی انجلی کو فریق بنایا گیا تھا۔ چنانچہ سونم وانگچک کو ان کی رضامندی کے بغیر اسپتال میں کیسے رکھا جا سکتا ہے؟
سونم وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ یہ بھوک ہڑتال نیٹامتحان اور دیگر امتحانات میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ سونم وانگچک کو 18 جولائی کو جنتر منتر سے ہٹائے جانے کے بعد بھی احتجاج جاری ہے۔ اب طلبہ یونین کے لیڈروں نے وہاں بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جن میں جے این یو طلبہ یونین کی سابق صدر عائشہ گھوش بھی شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی