
۔ ایس آئی ٹی کی جانچ پراتر پردیش حکومت سے جواب طلب ، اگلی سماعت 27 جولائی کو
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے ایودھیا میں شری رام مندر کے چڑھاوے میں بے ضابطگیوں کے معاملے پر سیاست نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تحقیقات پر اتر پردیش حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت 27 جولائی کو کرنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران، عدالت نے کہا کہ عدالت سیاست کا پلیٹ فارم نہیں ہے۔ عدالت کا واحد مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ معاملے کی منصفانہ اور موثر تحقیقات ہو۔ پیر کے روز سماعت کے دوران اب تک کی تحقیقات سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کی گئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس وقت تحقیقات کون کر رہا ہے؟ تب اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ سچائی کا پتہ لگانے کے لیے پہلے ہی ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اسے سنگین جرم تسلیم کیا ہے ، جس کے بعد پولیس اب اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ کیا جانچ دوبارہ ایس آئی ٹی کو سونپی جا سکتی ہے۔ مہتا نے جواب دیا کہ حکومت اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرے گی۔
سماعت کے دوران، درخواست گزاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل دیودت کامت نے کہا کہ مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر کے لوگوں نے چندہ دیا تھا، اس لیے عطیہ کی تمام رسیدوں کو محفوظ کر کے عوامی طور پر اپ لوڈ کیا جانا چاہیے۔ تب عدالت نے کہا کہ اس تجویز پر غور کیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے 13 جولائی کو ٹرسٹ اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل سے متعلق ریکارڈ طلب کیا تھا۔ اس معاملے میں نرموہی اکھاڑہ نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں رام مندر کا انتظام کرنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی تشکیل نو کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نرموہی اکھاڑہ کی عرضی میں ٹرسٹ بورڈ کے ذریعہ جائیداد کی منتقلی اور مالی لین دین کی فارنسک جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نرموہی اکھاڑہ کی عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مندر میں نصب نئی مورتی کی جگہ اس جگہ پر پہلے سے موجود 1950اور 1982کی مورتیوں کو پھر سے نصب کیا جائے۔ یہعرضی اس درخواست کے جواب میں دائر کی گئی ہے، جس پر پانچ رکنی آئینی بنچ نے فیصلہ سنایا تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد