
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو مانسون اجلاس سے قبل تمام ارکان پارلیمنٹ سے ایوان کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دلیل اور حقائق مضبوط ہوں تو پُرسکون انداز میں بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ بحث کو بامعنی بنایا جائے، ہر آواز کو جگہ دی جائے اور ہر خیال کا احترام کیا جائے۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع ہو رہا ہے۔ ہر اجلاس سے قبل وزیر اعظم روایتی طور پر پارلیمنٹ احاطے میں میڈیا سے خطاب کرتے ہیں اور حکومت کی ترجیحات اور اجلاس سے متعلق اپنی توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے مانسون اجلاس کا موازنہ برسات کے موسم سے کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے فعال ہونے سے پیداواریت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے ایک طرف ملک کا اور دوسری طرف تمام جانداروں کا فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے دونوں کے فعال رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک نے اب ترقی کی نئی رفتار حاصل کر لی ہے اور پارلیمنٹ اپنی مثبت سوچ کے ساتھ مانسون اجلاس میں اس رفتار کو مزید توانائی فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا چلنا، بامعنی بحث ہونا اور ملک کو آگے لے جانے کی کوشش وقت کی ضرورت ہے۔ حب الوطنی سے سرشار خیالات کو ایوان میں جگہ ملتی رہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ میں ملک نے کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے ملک کے عوام کو فخر محسوس ہوا ہے۔ یہ کامیابیاں قومی، بین الاقوامی اور خلائی شعبوں سے متعلق ہیں۔ ان میں راجستھان میں آئل ریفائنری کا افتتاح، تیسرے سیمی کنڈکٹر پلانٹ کی لانچنگ اور گرین ہائیڈروجن ٹرین شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے نوجوان اسٹارٹ اپ اسکائی روٹ کی جانب سے نجی راکٹ کو خلا میں لانچ کیے جانے کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسٹارٹ اپ میں کام کرنے والے افراد کی اوسط عمر 28 سال ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی صلاحیت اور امنگیں خلا کی طرح بے حد و وسیع ہیں۔
انہوں نے کہا، یہ کامیابیاں ہندوستان کو اعتماد سے بھر دیتی ہیں اور دنیا میں ہندوستان کے مقام کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔ ریفارم ایکسپریس کی وجہ سے ہی نوجوان آج اتنے بڑے کام انجام دے پا رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد