
نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن، اپوزیشن نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں این ای ای ٹی-یو جی پیپر لیک اور ایودھیا کے شری رام مندر میں چڑھاوا کی چوری سمیت مختلف مسائل پر ہنگامہ کیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے کے فوراً بعد دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے این ای ای ٹی-یو جی پیپر لیک کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پر اپنے مطالبات کو اٹھانے کے لئے جمع ہونے والے طلباءکی آواز کو خاموش کر انے کے لئے لاٹھی چارج کیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے پر ایوان میں بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی۔
اس دوران ، لوک سبھا میں، اپوزیشن کے ممبران پارلیمنٹ نے این ای ای ٹی-یو جی پیپر لیک، ایودھیا کے شری رام مندر میں چڑھاوا کی چوری اور دیگر مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ کئی ممبران پارلیمنٹ پوسٹر اور بینرز لے کر پہنچے۔ مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ایوان کی کارروائی تقریباً 12 منٹ تک چلی جس کے بعد لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی۔
قابل ذکر ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن 13 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران کل 19 اجلاس ہونے والے ہیں۔ حکومت اس سیشن کے دوران سات اہم بلوں کو پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے جن میں انکم ٹیکس ترمیمی بل، قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل اور سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی