
نئی دہلی ، 20 جولائی (ہ س) ۔پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن اپوزیشن کے مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد بھی اچھی طرح سے نہیں چل سکی۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی بالآخر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
جب لوک سبھا دوبارہ شروع ہوئی تو پریذائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے ایوان کو مطلع کیا کہ اسپیکر نے کسی بھی تحریک التواءکو منظور نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد سوالات کا وقت شروع ہوا اور متعلقہ مرکزی وزراءنے درج سوالات کے جوابات پیش کیے۔
اس دوران اپوزیشن ارکان نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی کرتے رہے۔ پریزائیڈنگ آفیسر دلیپ سائکیا نے بار بار اپوزیشن ارکان سے اپیل کی کہ وہ اپنی نشستوں پر رہیں اور ایوان کو آرام سے چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ نعرے بازی سے ایوان نہیں چلے گا اور تمام اراکین تعاون کریں۔ اس کے باوجود جب ہنگامہ جاری رہا تو انہوں نے لوک سبھا کی کارروائی 12:30 بجے تک ملتوی کر دی۔
دوسری جانب جب راجیہ سبھا میں کارروائی شروع ہوئی تو چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ایوان کی کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن کے مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث کارروائی شروع ہونے کے چند ہی منٹوں میں انہیں ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی