پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ اپوزیشن کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کے امکانات ہیں۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں اپوزیشن جماعتوں نے شری رام مندر میں چڑھاوے کی م
پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس آج سے شروع


نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ اپوزیشن کے سخت رویے کو دیکھتے ہوئے آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے ہنگامہ خیز رہنے کے امکانات ہیں۔ حکومت کی جانب سے گزشتہ روز طلب کی گئی کل جماعتی میٹنگ میں اپوزیشن جماعتوں نے شری رام مندر میں چڑھاوے کی مبینہ چوری، ایتھنال اور نیٹ پرچہ لیک جیسے معاملات پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) اور خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔

حکومت نے ان بلوں کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل صبح 10:15 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کے ہنس دوار پر میڈیا سے خطاب کر سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 13 اگست تک جاری رہے گا، جس کے دوران 19 نشستیں ہوں گی۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقد ہونے والی کل جماعتی میٹنگ کے آغاز میں اپوزیشن جماعتوں نے ترنمول کانگریس کے باغی گروپ کو مدعو کیے جانے پر احتجاج کیا اور کچھ دیر کے لیے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا۔

بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں میں کانگریس، سماجوادی پارٹی، ڈی ایم کے، جھارکھنڈ مکتی مورچہ، عام آدمی پارٹی، نیشنل کانفرنس اور شیوسینا (یو بی ٹی) سمیت دیگر پارٹیاں شامل تھیں۔ حکومت کی جانب سے صورتِ حال واضح کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتیں دوبارہ میٹنگ میں شامل ہو گئیں۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ جب اس دھڑے کو ایوان میں باضابطہ منظوری حاصل نہیں، تو اسے کس حیثیت سے اجلاس میں مدعو کیا گیا۔

حکومت نے واضح کیا کہ لوک سبھا کے 20 ارکان نے ایک الگ گروپ تشکیل دیا ہے اور انہوں نے اپنی منظوری کے لیے لوک سبھا اسپیکر کے سامنے درخواست بھی جمع کرا رکھی ہے۔ اگرچہ اسپیکر نے ابھی اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا، لیکن ان کی تعداد کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً تین گھنٹے جاری رہنے والی کل جماعتی میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن کی باتیں غور سے سنیں۔ اجلاس میں 40 سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہوئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ میٹنگ خوشگوار رہی، سب نے اپنی بات رکھی، اور ایوان کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ مانسون اجلاس میں آٹھ بل پیش کرے گی، جن میں غیر ملکی تعاون (ضابطہ) ترمیمی بل اور وکست بھارت شکشا ادھیشتھان جیسے بل شامل ہیں۔ تاہم مانسون اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل اور حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) بل پیش کیے جانے کے بارے میں ابھی کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ اگر حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی تو وہ ان بلوں کو بھی منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande