پارلیمنٹ مارچ سے پہلے افراتفری: جنتر منتر کی طرف بڑھ رہے مظاہرین پر ریل بھون کے قریب لاٹھی چارج، آنسو گیس کے گولے داغے گئے
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن پیر کو راجدھانی دہلی کا سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی کال پر جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ میں ہزاروں مظاہرین مسابقتی امتحانات بالخصوص این ای ای ٹی-یو جی اور
مارچ


نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن پیر کو راجدھانی دہلی کا سیاسی ماحول گرم ہوگیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی کال پر جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ میں ہزاروں مظاہرین مسابقتی امتحانات بالخصوص این ای ای ٹی-یو جی اور مختلف بھرتی امتحانات کے مبینہ پیپر لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے اس مارچ کو دیکھتے ہوئے پارلیمنٹ ہاوس اور آس پاس کے پورے علاقے کو حفاظتی حصار میں لے لیا گیا، تاہم مظاہرین پارلیمنٹ کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔

ذرائع کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً 5000 لوگوں کے جمع ہونے کا اندازہ لگایا تھا لیکن 10,000 سے 12,000 مظاہرین جنتر منتر پر پہنچ گئے۔ ہجوم میں اضافہ نے دہلی پولیس اور سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کو اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ پارلیمنٹ کے تمام داخلی راستے بند کر دیے گئے تھے اور اہم مقامات پر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو درست معلومات ملی تھیں۔ بھیڑ تیزی سے بڑھ کر 50,000 سے زیادہ ہو گئی۔ مارچ کے دوران کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں اور نوک جھونک کی اطلاعات ہیں۔ بعض مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سی جے پی کے پارلیمنٹ مارچ سے قبل پیر کو دارالحکومت دہلی میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ جنتر منتر کی طرف بڑھنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان کئی مقامات پر شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے پہلے رکاوٹیں کھڑی کیں اور پھر جب بھیڑ آگے بڑھنے لگی تو لاٹھی چارج کیا۔ ریل بھون کے قریب مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس بھی چلائی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق منڈی ہاو¿س میٹرو اسٹیشن پر صبح سے ہی سینکڑوں طلباءاور نوجوان جمع ہونا شروع ہو گئے۔ وہاں سے پیدل مارچ کرتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاجی مقام پر پہنچے۔ مظاہرے میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ مظاہرین مرکزی حکومت اور وزیر تعلیم کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ پولیس نے جنتر منتر اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کی طرف جانے والی سڑکوں پر پہلے ہی بھاری رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ جب مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹا کر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو انہوں نے انہیں روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیاجس سے افراتفری پھیل گئی اور بہت سے مظاہرین کو مختلف سمتوں میں بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔ ریل بھون کے قریب صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، جہاں پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں پولیس کا لاٹھی چارج اور مظاہرین کو رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے متعدد طلبہ رہنماو¿ں اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے افراد کو بسوں میں مختلف مقامات پر لے جایا گیا۔ تاہم پولیس کی کارروائی کے باوجود کئی گروپ مختلف راستوں سے جنتر منتر اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ مظاہروں کے پیش نظر، احتیاطی اقدام کے طور پر جن پتھ اور پٹیل چوک سمیت کئی دہلی میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دیے گئے۔ مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی اسٹیشنوں پر بھاری بھیڑ دیکھی گئی۔ سیکورٹی مقاصد کے لیے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ، جنتر منتر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande