
گوہاٹی ، 20 جولائی (ہ س)۔ آسام کے شیو ساگر ضلع میں دکھو ندی میں سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔ سملوگوڑی علاقے میں پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے سیلابی پانی ریلوے اسٹیشن یارڈ، ریلوے کالونی اور ریلوے ٹریکس تک پہنچ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے، شمال مشرقی سرحدی ریلوے (این ایف ریلوے) نے حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے، سملوگوڑی -نمٹیالی اور سملوگوڑی -سیلینگھاٹ سیکشن پر تمام ٹرین خدمات کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا ہے۔
شمال مشرقی سرحدی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشن آفیسر کپینجل شرما نے پیر کو کہا کہ سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر لمبی دوری کی ٹرینوں کے آپریشن میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ڈبرو گڑھ اور نیوتنسوکیا سے چلنے والی لمبی دوری کی ٹرینیں اب رنگیا-رنگاپاڑہ روٹ سے چلائی جا رہی ہیں، تاکہ مسافروں کو کم سے کم تکلیف ہو اور ریل خدمات کو زیادہ سے زیادہ جاری رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی متاثرہ حصے پر چلنے والی کئی لوکل ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ کچھ ٹرینوں کا آپریشن جزوی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں انجینئرنگ اور تکنیکی عملے کی خصوصی ٹیمیں ضروری آلات اور سامان کے ساتھ تعینات کر دی گئی ہیں۔ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم ، پٹریوں، پلوں اور دیگر ریل انفراسٹرکچر کا تفصیلی معائنہ سیلابی پانی کے کم ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گا۔ اس کے بعد نقصان کا اندازہ لگایا جائے گا اور ضروری مرمت شروع کی جائے گی۔ حفاظتی معیارات کی تصدیق ہونے کے بعد ہی ریل خدمات دوبارہ شروع کی جائیں گی۔
ریلوے نے مسافروں کو ریلیف دینے کے لیے کئی خصوصی انتظامات بھی کیے ہیں۔ بڑے اسٹیشنوں پر امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مسافروں کو کھانے کے پیکٹ ، پینے کا پانی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ جن مسافروں کا سفر متاثر ہوا ہے، ان کے لیے ٹکٹ کی واپسی اور منسوخی کے عمل کو بھی آسان کر دیا گیا ہے ، تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ریلوے نے متبادل آمدورفت کا بھی انتظام کیا ہے۔ آسام اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (اے ایس ٹی سی) کی بسوں کے ساتھ ساتھ مقامی گاڑیوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو نمٹیالی سے شیواساگر ٹاو¿ن ریلوے اسٹیشن تک لے جایا جا سکے۔ مزید ، پھنسے ہوئے مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کے لیے شیوا ساگر ٹاو¿ن سے ڈبرو گڑھ اور نیو تنسوکیا تک خصوصی ٹرینیں چلانے کے منصوبے جاری ہیں۔
ریلوے نے سیلاب سے متاثرہ ٹرینوں کے مسافروں کی مدد کے لیے ایک خصوصی مہم بھی شروع کی۔ 22503 وویک ایکسپریس کے 217 مسافروں کو سڑک کے ذریعے سلینگھاٹ سے ماریانی تک بحفاظت پہنچایا گیا۔وہیں، 15959 کامروپ ایکسپریس کے 570 مسافروں اور 15934 امرتسر - تنسوکیا ایکسپریس کے 490 مسافروں کو ماریانی اسٹیشن پر کھانا، پینے کا پانی اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔
ریلوے انتظامیہ نے مسافروں پر زور دیا ہے کہ وہ سوار ہونے سے پہلے ٹرین کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لے لیں۔ ساتھ ہی ، سیلاب کی صورت حال کی روشنی میں، لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ریلوے کی سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی