لاٹھی چارج سے تحریک نہیں رکتی، یہ حکومتوں کی رخصتی کو یقینی بناتا ہے: عام آدمی پارٹی
نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے جنتر منتر پر طلباءکے احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ اے اے پی رہنماوں نے کہا کہ طلباءکی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا
اپ


نئی دہلی، 20 جولائی (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) نے جنتر منتر پر طلباءکے احتجاج کے دوران مبینہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی سخت مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ اے اے پی رہنماوں نے کہا کہ طلباءکی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا، لاٹھی چارج سے تحریک نہیں رکتی، یہ حکومتوں کی رخصتی کو یقینی بناتا ہے۔

پیر کو پارٹی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس ہوئی۔ پریس کانفرنس میں دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج، راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی، گجرات کے ریاستی انچارج گوپال رائے، براری کے ایم ایل اے سنجیو جھا اور نیشنل میڈیا ہیڈ انوراگ ڈھانڈا موجود تھے۔

اس موقع پر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ملک بھر سے جنتر منتر پر جمع ہونے والے طلبہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ ملک کی نوجوان نسل مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے ناخوش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت طلباءکے مسائل حل کرنے کے بجائے جبر کا سہارا لے رہی ہے۔

راجیہ سبھا ایم پی سنجے سنگھ نے کہا کہ طلبائنیٹ پیپر لیک ہونے پر جنتر منتر پر گزشتہ 23 دنوں سے احتجاج کر رہے تھے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلباءپر مبینہ لاٹھی چارج جمہوریت کے لیے بدقسمتی ہے۔

دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر آتشی نے کہا کہ طلبہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ پیپر لیک جیسے واقعات ملک میں رونما ہونے سے روکیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مذاکرات میں شامل ہونے کے بجائے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کر رہی ہے۔

گجرات کے ریاستی انچارج گوپال رائے نے الزام لگایا کہ طلباء کی حمایت میں بھوک ہڑتال کرنے والی سونم وانگچک کو بھی جنتر منتر سے ہٹا دیا گیا جس سے حکومت کے جابرانہ رویہ کا پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھے: مظاہرین ابھیجیت دپکے کی فوری رہائی، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کی برطرفی اور طلباءکے خلاف مبینہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طلبہ کی آواز کو اسی طرح دبایا گیا تو مستقبل میں تحریک مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

براری کے ایم ایل اے سنجیو جھا نے کہا کہ دارالحکومت میں طلباء کے خلاف طاقت کا استعمال جمہوریت کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل سننے کے بجائے جبر کا سہارا لے رہی ہے۔

آپ لیڈروں نے پورے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت طلباء سے بات کرے اور ان کے مطالبات پر غور کرے اور طاقت کے استعمال سے احتجاج کو دبانے کی کوشش نہ کرے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande