
احمد آباد، 20 جولائی (ہ س)۔
گجرات کے احمد آباد کے وسترال علاقے میں پٹاخہ بنانے والی ایک غیر قانونی فیکٹری میں ہوئے زبردست دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے۔ ایک زخمی، جو 95 فیصد جھلس گیا تھا، پیر کی صبح سول اسپتال میں زیر علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ چار دیگر زخمی اس وقت زیر علاج ہیں جن میں سے ایک خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔
سول اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر راکیش جوشی نے بتایا کہ حادثے کے بعد ایک خاتون اور چار مرد سمیت پانچ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک مرد 95 فیصد سے زیادہ جھلس گیا تھااور عورت 75 فیصد سے زیادہ جل گئی تھی۔ دونوں کی حالت نازک ہونے کی وجہ سے انہیں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا۔
ڈاکٹر جوشی کے مطابق، مرد مریض، جو 95 فیصد جھلس گیا تھا، پیر کی صبح تقریباً 2:15 بجے علاج کے دوران فوت ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن شدید جھلس جانے کی وجہ سے اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسپتال کے برنز وارڈ میں داخل مریضوں میں سے ایک 40 فیصد اور دوسرا 20 فیصد جھلس چکا ہے۔ سول اسپتال میں دستیاب اسکن بینک کی مدد سے 40 فیصد جھلسنے والے مریض کے جسم کے تقریباً 28 فیصد اور 20 فیصد جھلسنے والے مریض کے جسم کے تقریباً 15 فیصد پر عطیہ شدہ اسکن گرافٹس لگائی گئی ہیں۔ پلاسٹک سرجری اور برن کے ماہرین کی ٹیم دونوں مریضوں کو گہرا علاج فراہم کر رہی ہے۔ داخل تیسرے مریض کی حالت نارمل بتائی جاتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ہفتہ 18 جولائی کو احمد آباد کے رامول تھانہ علاقے کے تحت وسترال گاو¿ں کے علاقے میں ایک غیر قانونی طور پر چلنے والی پٹاخہ فیکٹری میں زبردست دھماکہ ہوا تھا۔ اس سے قبل اس المناک حادثے میں نو افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ اب ایک اور زخمی شخص کی موت کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے اور فیکٹری کے غیر قانونی آپریشن اور حادثے کی وجوہات کی جانچ کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ