
مدھیہ پردیش کے پنا میں چتا آندولن پر پولیس کی کارروائی، 300 مظاہرین حراست میں
14 دن سے مرن برت پر بیٹھے بھٹناگر سمیت تین سو لوگ حراست میں
بھوپال/پنا، 19 جولائی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے پنا ضلع میں چل رہے آبپاشی منصوبوں میں بدعنوانی اور بحالی کے مسائل کو لے کر ’چتا آندولن‘ کے 17 ویں دن اتوار کے روز علی الصبح پولیس نے تحریک کی قیادت کر رہے امت بھٹناگر سمیت تقریباً 300 مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
دراصل، ریاست کے بندیل کھنڈ علاقے میں کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اور دیگر آبپاشی منصوبوں کی مخالفت میں گزشتہ 16 دنوں سے چتا آندولن چل رہا ہے۔ آج 17 ویں دن پنا اور چھترپور ضلع کی سرحد پر کپی گاوں کے پاس بنالا ندی پر زیرِ تعمیر پل کے نزدیک چل رہے چتا آندولن کے اسٹیج کو اتوار کے روز علی الصبح پولیس اور انتظامیہ نے گھیر لیا۔ صبح تقریباً 5 بجے بھاری پولیس فورس نے پورے جائے احتجاج کی گھیرا بندی کر دی اور وہاں سو رہے مظاہرین کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے بربریت کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے 250 سے 300 لوگوں کو حراست میں لے کر گاڑیوں میں بھر لیا۔ بتایا گیا کہ گزشتہ 14 دنوں سے بغیر اناج اور پانی کے مرن برت پر بیٹھے امت بھٹناگر کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے پولیس انہیں میڈیکل چیک اپ کے لیے اپنے ساتھ لے گئی، لیکن انہیں کس اسپتال یا جگہ پر رکھا گیا ہے، فی الحال اس کی معلومات انتظامیہ نے نہیں دی ہے۔
تحریک سے وابستہ بیجاور نگر پریشد کی کونسلر اور ایل ایل بی کی طالبہ دیویا اہیروار نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے پولیس کارروائی پر سخت سوالات کھڑے کیے ہیں۔ دیویا کا الزام ہے کہ امت بھٹناگر اتوار کی دوپہر کو آبپاشی منصوبوں میں ہوئی بدعنوانی سے متعلق اہم سرکاری دستاویزات عام کرنے والے تھے، جس سے گھبرا کر انتظامیہ نے صبح سویرے یہ جابرانہ قدم اٹھایا۔ انہوں نے اسے جمہوری طریقے سے ہو رہے پرامن احتجاج کو کچلنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
بھٹناگر کا الزام ہے کہ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ، مجھگاوں ڈیم، رُنجھ، نیگواں اور این ٹی پی سی سے منسلک مختلف آبپاشی منصوبوں میں حکام اور دلالوں کی ساز باز سے 400 کروڑ روپے سے زائد کا بڑا گھوٹالہ ہوا ہے۔ فرضی گرام سبھائیں منعقد کر کے نااہل افراد کو کروڑوں کا معاوضہ تقسیم کر دیا گیا، جبکہ 50 ہزار سے زیادہ حقیقی حقدار بے گھر افراد آج بھی اپنے حقوق کے لیے در در بھٹک رہے ہیں۔ دوسری طرف چھترپور اور پنا ضلع انتظامیہ نے اس کارروائی کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری بتایا ہے۔ چھترپور ضلع انتظامیہ کے مطابق مظاہرہ کرنے والوں میں زیادہ تر لوگ پڑوسی ضلع پنا کے رُنجھ اور مجھگاوں آبپاشی پروجیکٹ سے متاثر ہیں، جن کا چھترپور ضلع میں معاوضے یا بحالی کے عمل سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔
بیجاور کے ایس ڈی ایم وجئے دویویدی نے کہا کہ کین-بیتوا لنک پروجیکٹ بندیل کھنڈ میں پانی کی کمی دور کرنے کے لیے قومی اہمیت کا ایک منصوبہ ہے۔ پنا ضلع کے لوگوں کی شکایتوں کا ازالہ پنا کی مقامی انتظامیہ ہی کرے گی، اس لیے مظاہرین کو اپنے آبائی ضلع لوٹ کر حکام سے بات چیت کرنی چاہیے۔ انتظامیہ نے تحریک کاروں سے پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو لوٹنے کی اپیل کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن