احمد آبادپٹاخہ فیکٹری دھماکہ معاملہ: تین منتظمین گرفتار
احمد آباد، 19 جولائی (ہ س): گجرات کے احمد آباد میں ہفتہ کے روز ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کے معاملے میں پولیس نے مرکزی ملزم مہول ڈوڈیا سمیت تین منتظمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ اب انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر کارروائ
احمد آباد آتش بازی فیکٹری دھماکہ معاملہ: تین منتظمین گرفتار


احمد آباد، 19 جولائی (ہ س): گجرات کے احمد آباد میں ہفتہ کے روز ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والے دھماکے کے معاملے میں پولیس نے مرکزی ملزم مہول ڈوڈیا سمیت تین منتظمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ اب انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔

پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ آئندہ گنیش وسرجن کے آرڈرز مکمل کرنے اور زیادہ منافع کمانے کی لالچ میں فیکٹری کو غیر قانونی طور پر دوبارہ شروع کیا گیا تھا۔ احمد آباد کے وسترال علاقے میں رامول گٹراڈ روڈ پر واقع ایک کھیت میں چلنے والی اس غیر قانونی آتش بازی فیکٹری میں ہفتے کے روز ہونے والے شدید دھماکے میں 9 افراد ہلاک جبکہ 5 دیگر شدید زخمی ہو گئے تھے۔

اس حادثے میں ضلع داہود کی سنجیلی تحصیل کے اٹاڑی گاؤں کے ایک ہی خاندان کے رمی بین بھرت بھائی چورس، رنکو بھرت بھائی چورس، شیوانی بھرت بھائی چورس، روینا بھرت بھائی چورس اور وشو بھرت بھائی چورس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع داہود کے بھیکھڑاپور گاؤں کی رہائشی اوما بین گووند بھائی ڈامور، ابھیہاپور کی رہائشی سویتا بین سریش بھائی ڈامور، کپڈونج کے رہائشی اثرار علی اسکل انجلی شیخ اور ضلع آنند کے عمریٹھ کے رہائشی اثرالدین کاکی بھی اس حادثے میں جان بحق ہو گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد تمام متوفیوں کی لاشیں پولیس سکیورٹی میں ان کے آبائی اضلاع داہود کے سنجیلی، کپڈونج، عمریٹھ اور احمد آباد کے رامول روانہ کر دی گئیں۔

احمد آباد کے پولیس کمشنر انوپم سنگھ گہلوت نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ فیکٹری کا لائسنس 4 مارچ کو ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نے اسے بند کرا دیا تھا۔ تاہم گزشتہ 20 سے 25 دنوں کے دوران پولیس رتھ یاترا کی سکیورٹی میں مصروف تھی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منتظمین نے داہود سے مزدور بلا کر غیر قانونی طور پر دوبارہ آتش بازی تیار کرنا شروع کر دی۔ گنیش وسرجن کے لیے ملنے والے بڑے آرڈرز پورے کرنے کی غرض سے کھیت میں قائم ٹین شیڈ میں پیداوار جاری تھی کہ اسی دوران زوردار دھماکہ ہو گیا۔

کمشنر نے بتایا کہ پولیس نے اس معاملے میں مرکزی ملزم مہول ڈوڈیا، اس کی والدہ رمیلا بین ڈوڈیا اور صادق سید کو گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سال 2014 میں جب یہ فیکٹری رمیلا بین ڈوڈیا کے نام پر چلائی جا رہی تھی، تب بھی ایک دھماکے میں ایک شخص کی موت ہوئی تھی، جس کے بعد اس کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں سال 2020 میں مہول ڈوڈیا کے نام پر نیا لائسنس حاصل کیا گیا، لیکن اس کی تجدید نہیں کرائی گئی۔ اس کے باوجود فیکٹری میں غیر قانونی طور پر آتش بازی کی تیاری جاری رکھی گئی۔

پولیس نے ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز مواد ایکٹ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ غیر قانونی فیکٹری کی تعمیر کو منہدم کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande