ریاست کے 100 سے زائد لا کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا کی منظوری نہیں، منظوری کے لیے چھ ماہ کی مہلت
ریاست کے 100 سے زائد لا کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا کی منظوری نہیں، منظوری کے لیے چھ ماہ کی مہلتپونے، 19 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں 100 سے زائد لا کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا (بی سی آئی) کی لازمی منظوری نہ ہونے کا سنسنی خیز انکشاف ہ
EDUCATION MAHA LAW COLLEGES BCI APPROVAL


ریاست کے 100 سے زائد لا کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا کی منظوری نہیں، منظوری کے لیے چھ ماہ کی مہلتپونے، 19 جولائی (ہ س)۔ مہاراشٹر میں 100 سے زائد لا کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا (بی سی آئی) کی لازمی منظوری نہ ہونے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ تاہم اس وقت ریاست میں قانون کے مختلف کورسزمیں داخلے کا عمل جاری ہے، اس لیے طلبہ کے تعلیمی مفادات کو مدنظررکھتے ہوئے محکمہ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم نے متعلقہ کالجوں کومنظوری کا عمل مکمل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دے دی ہے۔ریاستی مشترکہ داخلہ امتحان سیل (سی ای ٹی سیل) کے ذریعے تین سالہ اور پانچ سالہ ایل ایل بی کورسز کے لیے داخلہ عمل جاری ہے۔ داخلہ کے عمل میں کسی بھی کالج کو شامل کرنے سے قبل سرکاری منظوری، متعلقہ یونیورسٹی کی منظوری اور بار کاؤنسل آف انڈیا کی منظوری سمیت تمام تکنیکی اورقانونی تقاضوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے ڈائریکٹوریٹ کے تحت آنے والے لا کالجوں کی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ ریاست کے 100 سے زائد کالجوں کے پاس بار کاؤنسل آف انڈیا کی لازمی منظوری موجود نہیں ہے۔ حکام کے مطابق جس طرح کالج آف ایجوکیشن کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے، اسی طرح لا کالجوں کا بھی وقتاً فوقتاً معائنہ کیا جاتا ہے، جس کے دوران یہ خامی سامنے آئی۔چونکہ داخلہ کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے، اس لیے طلبہ کو کسی بھی قسم کے تعلیمی نقصان سے بچانے کے مقصد سے محکمہ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم نے متعلقہ تعلیمی اداروں کو ضروری دستاویزات مکمل کرکے بار کاؤنسل آف انڈیا کی منظوری حاصل کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔ محکمہ نے تمام متعلقہ لا کالجوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر منظوری سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کریں تاکہ ان کی بار کاؤنسل آف انڈیا سے منظوری باقاعدہ حاصل ہو سکے اور مستقبل میں طلبہ کو کسی قسم کی دشواری یا قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande