ہر فوجی مہم مستقبل کے لیے ایک نیا سبق : سابق آرمی چیف جنرل منوج پانڈے
کولکاتا میں منعقدہ سیمینار میں سابق آرمی چیف نے فوجی جدید کاری اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا کولکاتا، 19 جولائی (ہ س)۔ قومی سلامتی اور اقتصادی مضبوطی کو ہندوستان کے مستقبل کی دو سب سے اہم بنیاد بتاتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے ک
سربراہانِ فوج کے مذاکرے میں شریک مقررین


کولکاتا میں منعقدہ سیمینار میں سابق آرمی چیف نے فوجی جدید کاری اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا

کولکاتا، 19 جولائی (ہ س)۔ قومی سلامتی اور اقتصادی مضبوطی کو ہندوستان کے مستقبل کی دو سب سے اہم بنیاد بتاتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان نے اپنی اسٹریٹجک صلاحیت میں نمایاں پیش رفت کی ہے لیکن مستقبل کے چیلنجوں کے پیشِ نظر دفاعی تیاریوں کو لگاتار مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی مہم مستقبل کے لیے ایک نیا سبق دیتی ہے۔ ان سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر مسلح افواج کی حکمتِ عملی کو مزید بااختیار بنایا جانا چاہیے۔

کولکاتا کے فیئر فیلڈ بائی میریٹ میں ویانا جیو-اکونومک فورم (وی جی ای ایف) کی جانب سے اتوار کو منعقدہ افتتاحی قومی سیمینار ’’ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں قومی سلامتی اور اقتصادی لچک : وکست بھارت کی اسٹریٹجک ترجیحات‘‘ کے موضوع پر ملک کے ممتاز فوجی حکام، اسٹریٹجک ماہرین، ماہرینِ اقتصادیات، صنعت کاروں اور کیپٹل مارکیٹ سے وابستہ ماہرین نے تفصیل سے غور و خوض کیا۔ پروگرام میں مشرقی کمان کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل گمبھیر سنگھ، بریگیڈیئر آدتیہ سہائے سمیت کئی سینئر فوجی حکام، سابق فوجی، صنعت کار اور مختلف شعبوں کے ماہرین موجود تھے۔

سیمینار کے اختتامی سیشن میں جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون، سائبر جنگ، خلائی نگرانی کے نظام اور جدید ترین ہتھیاروں نے جنگ کی پوری نوعیت بدل دی ہے۔ ایسے وقت میں صرف روایتی فوجی طاقت کافی نہیں ہوگی، بلکہ نئی ٹیکنالوجیز کو تیزی سے اپنانا اور انہیں فوجی مہمات کا حصہ بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں کثیر جہتی ہوں گی، جن میں زمین، سمندر اور ہوا کے ساتھ ساتھ سائبر اور خلائی شعبے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ اس لیے ہندوستانی مسلح افواج کو ان تمام شعبوں میں مربوط صلاحیت پیدا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی تربیت، جدید ہتھیاروں کی دستیابی، تکنیکی مہارت اور تیز فیصلے لینے کی صلاحیت پر خصوصی توجہ دینی ہوگی، تاکہ کسی بھی چیلنج کا موثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔

سابق آرمی چیف نے کہا کہ جدید جنگ میں ٹیکنالوجی کا کردار لگاتار بڑھ رہا ہے لیکن ایک فوجی کی سب سے بڑی طاقت آج بھی اس کا ڈسپلن، وطن سے لگن، ایمانداری، ہمت اور فرض شناسی ہے۔ یہ ایسی اقدار ہیں جو کسی بھی دور میں نہیں بدلتیں اور ہندوستانی فوج کی پہچان بھی یہی ہے۔

اس سے پہلے منعقدہ پہلے تکنیکی سیشن میں ’’ابھرتے ہوئے عالمی نظام میں ہندوستان کی دفاعی تیاری اور اسٹریٹجک مزاحمتی صلاحیت‘‘ کے موضوع پر لیفٹیننٹ جنرل راج شکلا، لیفٹیننٹ جنرل سبرت ساہا، لیفٹیننٹ جنرل دشینت سنگھ اور ایئر مارشل ناگیش کپور نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین نے بدلتے ہوئے عالمی سیکورٹی منظر نامے، قومی سلامتی کی حکمتِ عملی، آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے تجربات، دفاعی شعبے میں خود انحصاری، فوجی جدید کاری، اسٹریٹجک مزاحمتی صلاحیت اور مستقبل کی جنگوں میں نئی ٹیکنالوجیز کے کردار پر تفصیل سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو لگاتار وسعت دیتے ہوئے مقامی دفاعی پیداوار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

موجودہ اور مستقبل کا نقطۂ نظر‘‘ میں کرن دتا، ڈاکٹر اجیت راناڈے، سوگت گھوش دستیدار اور سدھارتھ شریواستو نے حصہ لیا۔ اس دوران عالمی سپلائی چین، توانائی کی سیکورٹی، اہم صنعتوں کی سیکورٹی، دفاعی اخراجات، تکنیکی مسابقت، دفاعی مینوفیکچرنگ اور دفاعی برآمدات جیسے موضوعات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مقررین نے کہا کہ مضبوط معیشت کے بغیر کسی بھی ملک کی قومی سلامتی طویل عرصے تک مضبوط نہیں رہ سکتی۔ اس لیے دفاع اور اقتصادی ترقی کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

پروگرام کے دوران مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندوستان میں دفاعی پیداوار کے شعبے میں نجی صنعتوں کی شمولیت لگاتار بڑھ رہی ہے۔ اس سے نہ صرف ملک کی دفاعی ضروریات پوری ہوں گی، بلکہ دفاعی برآمدات میں اضافے کے ذریعے معیشت کو بھی مضبوطی ملے گی۔

ویانا جیو-اکونومک فورم کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (سبکدوش) ترون کمار آئچ نے کہا کہ قومی سلامتی اور اقتصادی طاقت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ اسی سوچ کے ساتھ اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی ہے، تاکہ دفاع، معیشت، صنعت اور اسٹریٹجک امور کے ماہرین ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر آ کر سنجیدہ موضوعات پر حقائق پر مبنی بحث کر سکیں اور ہندوستان کی طویل مدتی اسٹریٹجک پالیسی کو مضبوط بنانے میں اپنا تعاون دے سکیں۔

سیمینار کے اختتام پر فورم نے اعلان کیا کہ یہ ملک میں قومی سلامتی، جیو پولیٹکس اور جیو اکونومی سے جڑے موضوعات پر مسلسل مکالمے کا آغاز ہے۔ آنے والے وقت میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے مختلف شعبوں کے ماہرین کو ایک ساتھ لا کر ہندوستان کی سیکورٹی، اقتصادی مضبوطی اور عالمی قیادت سے جڑے اہم مسائل پر باقاعدہ تبادلۂ خیال کا انعقاد کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande