
امراوتی، 17 جولائی (ہ س)۔ ریاستی حکومت کے پلاسٹک پر پابندی قانون پر مؤثر عمل درآمد کے سلسلے میں امراوتی میونسپل کارپوریشن نے اتوار بازار علاقے میں بڑے پیمانے پر خصوصی کارروائی کرتے ہوئے تقریباً تین لاکھ روپے مالیت کا 1925 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کیا۔ کارروائی کے دوران دو کاروباری اداروں پر چھاپے مارے گئے، جبکہ ایک ادارے کے دو الگ الگ گوداموں کی بھی تفصیلی تلاشی لی گئی۔ ضبط شدہ پلاسٹک کے معاملے میں دونوں اداروں پر مجموعی طور پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔میونسپل کارپوریشن کی ٹیم نے سبھاش پلاسٹک، جس کے مالک پپو شرما ہیں، اور ہارون حاجی پلاسٹک نامی اداروں پر اچانک چھاپے مارے۔ اس کے علاوہ سبھاش پلاسٹک کے دو الگ گوداموں کی مکمل جانچ کی گئی۔ تفتیش کے دوران دونوں اداروں اور گوداموں سے حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی مختلف اقسام کی پلاسٹک اشیا بڑی مقدار میں برآمد ہوئیں، جن کی اندازاً بازار قیمت تقریباً تین لاکھ روپے بتائی گئی۔ضبط کیے گئے سامان میں سنگل یوز پلاسٹک، پلاسٹک کے گلاس، پلاسٹک کے چمچ اور دیگر ممنوعہ ڈسپوزیبل پلاسٹک مصنوعات شامل تھیں۔ حکام کے مطابق ان اشیا کی ذخیرہ اندوزی، فروخت اور استعمال موجودہ پلاسٹک پابندی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسی لیے متعلقہ افراد کے خلاف ضبطی اور جرمانے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ مجموعی طور پر 1925 کلو گرام ممنوعہ پلاسٹک ضبط کیا گیا، جسے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے پلاسٹک پابندی کے نفاذ کی اہم اور بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔یہ کارروائی میونسپل کمشنر اور ایڈیشنل کمشنر شلپا نائک کی رہنمائی میں منصوبہ بند انداز میں انجام دی گئی۔ خصوصی مہم میں سوچھ بھارت ابھیان کی سٹی کوآرڈینیٹر شویتا بوکے، سینئر ہیلتھ انسپکٹر ڈکیاؤ، انسداد تجاوزات شعبہ کے سربراہ کولہے، پلاسٹک پابندی کے نوڈل افسر گوہر اور انسداد تجاوزات محکمہ کے دیگر ملازمین نے حصہ لیا۔میونسپل کارپوریشن نے واضح کیا ہے کہ شہر میں ممنوعہ پلاسٹک کے استعمال، ذخیرہ، فروخت، تقسیم یا نقل و حمل میں ملوث افراد کے خلاف آئندہ بھی اسی طرح کی مسلسل اور سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور قوانین کی خلاف ورزی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شہریوں، تاجروں، ہوٹل مالکان، دکانداروں اور تمام تجارتی اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی گئی پلاسٹک اشیا کا استعمال، ذخیرہ اور فروخت فوری طور پر بند کریں اور ماحول دوست و قابلِ استعمال متبادل اختیار کرتے ہوئے صاف، سرسبز اور پلاسٹک سے پاک امراوتی کی تعمیر میں میونسپل کارپوریشن کا تعاون کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بھی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضبطی اور سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ موجودہ قانون کے تحت پہلی بار خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ صرف پانچ ہزار روپے جرمانے کی گنجائش ہونے کے باعث اس قانون کا مطلوبہ خوف پیدا نہیں ہو رہا۔ خواہ ممنوعہ پلاسٹک کا ذخیرہ لاکھوں روپے مالیت کا ہو یا صرف چند سو گرام، پہلی مرتبہ جرمانہ پانچ ہزار روپے ہی مقرر ہے۔ اس صورت حال سے چھوٹے کاروباری افراد کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر سنگل یوز پلاسٹک ذخیرہ کرکے فروخت کرنے والے عناصر اس خلاف ورزی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ دوسری مرتبہ پکڑے جانے پر دس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جبکہ تیسری مرتبہ خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ متعلقہ حلقوں کا ماننا ہے کہ جب تک جرمانوں کو مزید سخت نہیں بنایا جائے گا، تب تک پلاسٹک پر پابندی کے باوجود سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال اور فروخت پر مؤثر روک لگانا ممکن نہیں ہوگا۔ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے