'کل ہو نا ہو' پر نکھل کے تبصرہ نے بحث چھیڑ دی
ہدایت کار نکھل اڈوانی نے اپنی مشہور فلم کل ہو نا ہو کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 2003 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم اب بھی شائقین کے دلوں کے قریب ہے ،لیکن فلم کے بعض پہلووں کو بدلتے ہوئے وقت اور حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرور
کل


ہدایت کار نکھل اڈوانی نے اپنی مشہور فلم کل ہو نا ہو کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ 2003 میں ریلیز ہونے والی یہ فلم اب بھی شائقین کے دلوں کے قریب ہے ،لیکن فلم کے بعض پہلووں کو بدلتے ہوئے وقت اور حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ نکھل کے مطابق، فلم کے کچھ مزاحیہ مناظر، خاص طور پر کانتا بین کے لطیفے، آج کے ناظرین کے لیے اتنے متعلقہ نہیں لگتے۔

ایک گفتگو کے دوران نکھل نے کہا کہ اگر ’کل ہو نا ہو‘ کا ریمیک بنایا جائے تو کہانی کو نئے انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا کہ شاید اس بار امن اور روہت کے رشتے کو رومانوی زاویہ سے بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تبصرہ ہلکے پھلکے انداز میں کیا گیا تھا، لیکن اس نے فلم کے کرداروں کے درمیان تعلقات کے بارے میں ان کے خیالات کو ضرور ظاہر کیا۔

نکھل اڈوانی کا خیال ہے کہ فلم کی اصل طاقت امن اور روہت کے رشتے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے فلم کا اختتام اس جذباتی لمحے پر ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے سے وعدہ کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر نے یہ بھی وضاحت کی کہ آج کے ناظرین فلم کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں اور اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ کہانی کے سب سے اہم مکالموں میں نینا کیوں موجود نہیں تھی۔ نکھل کے مطابق، یہ بدلتے ہوئے تناظر اور نئے سوالات وقتاً فوقتاً کلاسک فلموں کو نئے تناظر میں سمجھنے اور پیش کرنے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande