مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس یو سی سی کی مخالفت کرے گی، سوگت رائے نے کہا کہ اقلیتوں کے خلاف بی جے پی کا ایجنڈا
کولکاتا، 26 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) پر سیاست تیز ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے جمعہ کو واضح کیا کہ ریاستی اسمبلی میں جب بھی یونیفارم سول کوڈ بل پیش کیا جائے گا، پارٹی ا س کی مخالفت کرے گی۔ سینئر ترنمول کانگریس لیڈر ا
WB-UCC-TMC-Saugata-Roy-BJP-Agenda-Minorities


کولکاتا، 26 جون (ہ س)۔ مغربی بنگال میں مجوزہ یکساں سول کوڈ (یو سی سی) پر سیاست تیز ہوگئی ہے۔ ترنمول کانگریس نے جمعہ کو واضح کیا کہ ریاستی اسمبلی میں جب بھی یونیفارم سول کوڈ بل پیش کیا جائے گا، پارٹی ا س کی مخالفت کرے گی۔ سینئر ترنمول کانگریس لیڈر اور ایم پی سوگت رائے نے کہا کہ ان کی پارٹی شروع سے ہی یکساں سول کوڈ کے خلاف رہی ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

سوگت رائے نے کہا،”ہم نے شروع سے کہا ہے کہ ایسے قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی اپنی اقلیت مخالف ذہنیت کو دکھانے کے لیے یہ قانون لانا چاہتی ہے۔“

آئین کے آرٹیکل 44 کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یو سی سی سے متعلق دفعات ریاستی پالیسی کے ہدایتی اصولوں کا حصہ ہیں اور یہ لازمی نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسے میں اس مدعے کو کیوں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، بی جے پی حکومت کی جانب سے پیر کو مغربی بنگال اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں یکساں سول کوڈ بل پیش کئے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے پر ریاست میں یکساں سول کوڈ کو نافذ کرے گی۔

سکریٹریٹ ذرائع کے مطابق، مجوزہ بل میں پہاڑی علاقوں اور جنگل محل میں بعض برادریوں کے روایتی طریقوں اور آئینی تحفظات کے پیش نظر خصوصی دفعات یا چھوٹ شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم اس بل کی حتمی شکل اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔

درحقیقت یہ بل ریاست میں ایک بڑا سیاسی مدعا بننے جا رہا ہے۔ بی جے پی اسے صنفی انصاف، مساوی شہری حقوق اور گڈ گورننس کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے مسائل پر اسے چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

یکساں سول کوڈ کا مقصد تمام شہریوں کے لیے مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر، شادی، طلاق، وراثت، جائیداد کی جانشینی اور گود لینے جیسے سول معاملات میں ایک یکساں قانونی نظام فراہم کرنا ہے۔ اس کا نفاذ مختلف مذاہب کے الگ الگ پرسنل لاء کی جگہ تمام طبقے کے لیے یکساں قانونی نظام لے گا۔

اتراکھنڈ ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے یکساں سول کوڈ نافذ کیا۔ اس کے بعد آسام اور کئی بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں جیسے گجرات، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹا پہلے ہی اسے نافذ کر چکے ہیں یا اس سمت میں پہل کر چکے ہیں۔ اب اسے مغربی بنگال میں بھی لاگو کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande