
تقریباً 30 میٹرک ٹن ٹراوٹ مچھلی کی برآمد کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں
دہرادون، 26 جون (ہ س)۔ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی بار اتراکھنڈ نے ٹراوٹ کو بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کیا ہے۔ پتھورا گڑھ ضلع میں تین ماہی گیری کوآپریٹیو کے ذریعہ تیار کردہ پانچ میٹرک ٹن رینبو ٹراوٹ نیپال بھیج دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے آنے والے دنوں میں تقریباً 30 میٹرک ٹن ٹراو¿ٹ برآمد کرنے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔
ماہی پروری کی ترقی کے وزیر سوربھ بہوگنا نے جمعہ کو سکریٹریٹ کے میڈیا سینٹر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دھارچولا اور منسیاری علاقوں میں تین کوآپریٹو سوسائٹیوں نے اس مچھلی کی تیاری کی۔ اسے کولڈ چین کے ذریعے ویراول، گجرات بھیجا گیا، جہاں پروسیسنگ کے بعد اسے 23 جون کو نیپال کی بین الاقوامی مارکیٹ میں برآمد کیا گیا۔ اس سے 33 مچھلی کاشتکاروں کو تقریباً 23.50 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس پہلی برآمد کی حوصلہ افزائی کے لیے، فشریز ڈیپارٹمنٹ نے ہارویسٹنگ، پیکجنگ اور نقل و حمل کے لیے 5.40 لاکھ روپے کی گیپ فنڈنگ فراہم کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دبئی میں منعقدہ گلف فوڈ ایکسپو کے دوران ہونے والے بین الاقوامی رابطوں کا مثبت نتیجہ ہے۔ محکمہ اب یورپ، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کی منڈیوں میں برآمدی امکانات تلاش کر رہا ہے اور تقریباً 30 میٹرک ٹن ٹراوٹ برآمد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ریاستی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے ماہی پروری کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ ٹراوٹ کی پیداوار، جو 2020تا2021میں تقریباً 250 میٹرک ٹن تھی، 2025-26 20میں تقریباً 800 میٹرک ٹن تک بڑھنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت اب تک 2.10 کروڑ روپے مالیت کے 45.10 میٹرک ٹن ٹراوٹ فراہم کیے جا چکے ہیں۔
وزیر کے مطابق، ریاست میں 10,011 مچھلی کاشتکار تھے، جو 2022 تک بڑھ کر 15,657 ہو گئے ہیں۔ اس میں 3,584 خواتین مچھلی کاشتکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022تا2026 کے دوران مچھلی کی پیداوار کی شرح نمو 11 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ 2026تا27 20میں، ریاست 11,805 میٹرک ٹن مچھلی پیدا کرے گی، جس کی تخمینہ قیمت 165 کروڑ روپے ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ ماہی پروری کا سالانہ بجٹ 2021 تا2022میں 55.76 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026تا2027میں 261.41 کروڑ ہو گیا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں 5,646 فش فارمرز کے لیے خود روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں اور محکمے میں 33 باقاعدہ تقرریاں بھی کی گئی ہیں۔
سوربھ بہوگنا نے کہا کہ سرکاری اسکیموں جیسے نیو ٹراوٹ پروموشن اسکیم اور چیف منسٹر فشریز پراپرٹی اسکیم کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں اور ماہی پروری کا شعبہ ریاست کی معیشت اور دیہی روزگار کے لیے ایک اہم بنیاد کے طور پر ابھر رہا ہے۔ پریس کانفرنس میں فشریز ڈائرکٹر چندر سنگھ دھرمشکتو، ڈپٹی ڈائرکٹر انل کمار، الپنا ہلدیا، پرمود کمار اور محکمہ کے دیگر افسران موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی