نہنگ دہرادون پہنچے، بات چیت کے بعد پاونٹا صاحب واپس آئے
دہرادون، 26 جون (ہ س)۔ ہماچل پردیش کے پاونٹا صاحب اور دیگر راستوں سے جمعرات کی رات دیر گئے کچھ نہنگ عقیدت مندوں کے دہرادون پہنچنے کی اطلاعملنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آگئی ۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر پریم نگر علاقے میں ہائی الرٹ کا اعلان
UK-Nihang-devotees-return-talks-


دہرادون، 26 جون (ہ س)۔ ہماچل پردیش کے پاونٹا صاحب اور دیگر راستوں سے جمعرات کی رات دیر گئے کچھ نہنگ عقیدت مندوں کے دہرادون پہنچنے کی اطلاعملنے کے بعد پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آگئی ۔ سیکورٹی وجوہات کی بناء پر پریم نگر علاقے میں ہائی الرٹ کا اعلان کرتے ہوئے بھاری پولیس فورس اور پی اے سی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بعد، تمام نہنگ یاتریوں کو پرامن طریقے سے پاونٹا صاحب (ہماچل پردیش) واپس بھیج دیا گیا۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے دفتر کے مطابق، نہنگ عقیدت مندوں کے دہرادون پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور انتظامی حکام جائے وقوعہ پر پہنچے اور ان سے تفصیلی بات چیت کی۔ عہدیداروں نے ان کے مسائل سنے اور انتظامی فریق کو آگاہ کیا۔ بات چیت کے بعد باہمی اتفاق رائے سے تمام عقیدت مندواپسی پر راضی ہو گئے اور انہیں پرامن طریقے سے پاونٹا صاحب روانہ کر دیا گیا۔

اس دوران وکاس نگر سے کچھ نہنگ سکھوں کے دہرادون کی طرف بڑھنے کی اطلاع ملتے ہی پریم نگر علاقے میں سیکورٹی کو سخت کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے پریم نگر چوک سمیت اہم مقامات پر بیریکیڈنگ کر دی اور ٹریفک کو عارضی طور پر کنٹرول کیا۔ جس کے باعث علاقے میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور ٹریفک جام ہوگیا۔

حفاظتی اقدامات کے تحت ضلع کے مختلف تھانوں سے اضافی پولیس اور پی اے سی اہلکاروں کو طلب کر لیا گیا ۔ پولیس کے اعلیٰ افسران جائے وقوعہ پر موجود تھے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔ آگ بجھانے والی گاڑیوں کو بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس کی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی اچانک آمد اور رات کے وقت سائرن بجنے سے پریم نگر علاقہ میں لوگوں میںہلچل مچ گئی۔ بہت سے دکانداروں نے احتیاط کے طور پر اپنی دکانیں بند کر دیں جبکہ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ رات دیر گئے تک پریم نگر چوک اور آس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی سخت رہی۔

ایس ایس پی آفس کے مطابق واقعے کے دوران امن و امان مکمل طور پر کنٹرول میں رہا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ حکام اور نہنگ عقیدت مندوں کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد تمام عقیدت مند بغیر کسی تنازع کے واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد علاقے میں معمولات بحال ہو گئے۔

قابل ذکر ہے کہ اتراکھنڈ میں نہنگ عقیدت مندوں سے متعلق واقعات چمولی ضلع کے کرن پریاگ میں 16 جون کو ایک تنازعہ کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ہیم کنڈ صاحب یاترا سے واپس آنے والے کچھ نہنگ عقید تمندوں اور مقامی باشندوں کے درمیان مبینہ طور پر پارکنگ کو لے کر جھگڑا ہوا۔ جھگڑا بڑھنے پر مارپیٹ ہوئی ، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے چار نہنگوں کو گرفتار کر لیا اور مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

بعد ازاں گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بڑی تعداد میں نہنگ عقیدت مند رودرپریاگ ضلع کے نگراسو گرودوارہ پہنچے اور اپنے گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وہاں ڈیرے ڈال دیئے۔ تقریباً تین دن تک جاری رہنے والے تعطل کے دوران پولیس اور انتظامیہ مسلسل مذاکرات میں مصروف رہے۔ پنجاب کے نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد، نہنگ عقیدت مندوں نے پرامن طریقے سے احتجاج ختم کیا اور گرودوارہ کا احاطہ خالی کر دیا۔

اسی واقعہ میں ایک پیشرفت کے دوران جمعرات کو کچھ نہنگ عقیدت مندوں کے دہرادون کی جانب جانے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور انتظامیہ الرٹ ہو گئی۔ پریم نگر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی گئی اور اضافی پولیس اور پی اے سی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ عہدیداروں نے نہنگ عقیدت مندوں سے بات کی، جس کے بعد انہیں پرامن طریقے سے پاونٹا صاحب (ہماچل پردیش) واپس بھیج دیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande