
کولکاتا، 26 جون (ہ س)۔ کولکاتا کے تارہ تلہ میں واقع بی -2 ٹرانسپورٹ ڈپو روڈ پر زیر تعمیر ایک گودام کی چھت گرنے کے تقریباً دو دن بعد بھی راحت اور بچاو¿ کا کام جاری ہے۔ بھاری لوہے کے بیم کو کاٹ کر اور کنکریٹ کے بڑے سلیب کو ہٹا کر ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ جمعہ کی صبح اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی۔
راحت اور بچاو کی ٹیموں نے بدھ کی دوپہر سے اب تک مجموعی طور پر 33 افراد کو ملبے سے نکالا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید کئی مزدور اب بھی پھنسے ہو سکتے ہیں۔ جمعرات کی رات گئے ملبے سے مزید دو لاشیں نکالی گئیں جن کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ آج علی الصبح ایس ایس کے ایم اسپتال میں زیر علاج منو کمار (19) اور ساحل سردار (19) کی موت ہوگئی۔
بہار کے مونگیر کے رہنے والے منو کمار کو بدھ کے روز ملبے سے زندہ نکال لیا گیا تھا۔ جمعرات کی شب ان کی سرجری ہوئی لیکن ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود جمعہ کی صبح ان کی موت ہو گئی۔ اس سے قبل ان کے بھائی گھی کمار (17) کی بھی اس حادثے میں موت ہو چکی ہے ، جب کہ ان کے والد اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اس کے علاوہ زخمی گنیش کالندی (45) کی بھی جمعہ کو علاج کے دوران موت ہو گئی۔
اب تک حادثے میں مرنے والوں کی شناخت کرشن چودھری (30)، روہت چودھری (40)، راہل چودھری (17)، چندرما چودھری (60)، پپو رجک (40)، اصغر حسین (55)، ساحل سردار (19)، گھی کمار (17)، حسن امام (44)، گنیش کالیندی (45)، نوین سنگھ (44)، منو کمار (19) اور سوپن مندل (53) کے طور پر ہوئی ہے۔ دو لاشوں کی شناخت ہونا باقی ہے۔
اٹھارہ زخمی ایس ایس کے ایم اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ لواحقین کا دعویٰ ہے کہ ان کے اہل خانہ اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ ریسکیو آپریشن کے تحت ، آج صبح ریلوے گیس کٹر کا استعمال کرتے ہوئے لوہے کے بیم کو کاٹا جا رہا ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے تھرمل ریڈار کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ مقامات کی مکمل تلاشی لینے تک راحت اور بچاو¿ آپریشن جاری رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد