
ایودھیا، 26 جون (ہ س)۔ ایودھیا میں شری رام جنم بھومی مندر کے عطیات کی مبینہ چوری کی تحقیقات کے درمیان، شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انل مشرا نے جمعہ کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ شری رام مندر کی تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین نریپیندر مشرا نے ان کے استعفوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ فیصلہ تحقیقات کی غیر جانبداری اور شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چمپت رائے اور انل مشرا نے اپنے استعفے ٹرسٹ کے صدر مہنت نرتیہ گوپال داس کو سونپ دیے ہیں۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت آیا ہے جب دان کی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی تحقیقات کو تیز کر دیا ہے۔ایس آئی ٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر جمعرات کو اس معاملے میں آٹھ لوگوں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی۔
بعد ازاں تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ٹرسٹ کے دونوں عہدیداروں کے استعفیٰ کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ تحقیقات میں تیزی آئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ شری رام جنم بھومی مندر میں پرساد سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں اور چوری کی شکایات موصول ہونے کے بعد، ریاستی حکومت نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایت پر، اعلی سطحی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے جس کی بنیاد پر کیس میں مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) فی الحال پورے معاملے کی تفصیلی جانچ کر رہی ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام پہلوو¿ں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan