
ایم پی کے رتلام میں محرم کے جلوس کے دوران ہائی ٹینشن لائن سے ٹکرایا تعزیہ، 3 کی موت، 7 سنگین
رتلام، 26 جون (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں پپلودا تھانہ علاقے کے تحت موضع ہتنارا میں جمعرات کی رات محرم کے جلوس کے دوران تعزیہ ہائی ٹینشن بجلی کی لائن سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں 10 سے زیادہ لوگ کرنٹ کی زد میں آ کر جھلس گئے۔ ان میں تین لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ بری طرح جھلسے 7 لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، جلوس میں تقریباً 200 لوگ شامل تھے۔ اسی دوران تقریباً 20 فٹ اونچائی پر گزر رہی ہائی ٹینشن بجلی کی لائن سے تعزیہ ٹکرا گیا۔ بجلی کی لائن کافی نیچے تھی۔ تعزیہ کے رابطے میں آتے ہی کرنٹ پھیل گیا اور آگے چل رہے کئی لوگ زمین پر گر پڑے۔ عینی شاہد امام الدین منصوری نے بتایا کہ جلوس کے دوران اسی تعزیہ کے ہائی ٹینشن بجلی کی لائن کی زد میں آنے سے کرنٹ پھیل گیا۔ حادثے کے وقت موقع پر نہ پولیس تھی اور نہ ہی محکمۂ بجلی کا کوئی ملازم۔ تعزیہ میں بجلی کا کرنٹ پھیلنے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ کئی لوگ زمین پر گر پڑے۔ حادثے کے بعد موقع پر لوگوں کا ہجوم جمع ہو گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور مقامی لوگوں کی مدد سے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا، جہاں تین لوگوں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
مہلوکین کی شناخت رشید خان، سڈو حسین اور ارباز خان کے طور پر ہوئی ہے۔ حالانکہ، ارباز کے اہل خانہ اسے اسپتال سے کہیں اور لے گئے۔ اس وجہ سے انتظامیہ نے 2 اموات کی تصدیق کی ہے، جبکہ ڈیوٹی ڈاکٹر رویندر سولنکی نے تین اموات کی تصدیق کی ہے۔ سات لوگ زخمی ہوئے ہیں، جن میں 5 کی حالت نازک ہے۔ سبھی کو الگ الگ اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ پپلودا کے ہتنارا گاوں کا ہے۔
میڈیکل کالج میں داخل زخمیوں میں انس (16) ولد اکرم، معین شاہ (35) ولد عشق شاہ، رحیم خان، اختیار خان، عرفان، شاہ رخ، شکیل، رئیس، محمد اور وحید شامل ہیں۔ وہیں ابراہیم ولد حنیف کو رتلام اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ رتلام میڈیکل کالج میں ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر رویندر سولنکی نے بتایا کہ تین لوگوں کی پہلے ہی موت ہو چکی تھی۔ انہیں مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔ تین متوفیان میں سے دو کے اہل خانہ باضابطہ کاغذی کارروائی پوری کیے بغیر انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ ان کی دھڑکنیں بند ہو چکی ہیں۔ ایک لاش کو میڈیکل کالج کے مرچوری میں رکھوایا گیا ہے۔
رتلام کے اے ایس پی راکیش پندرو نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامی افسران موقع پر پہنچ گئے تھے۔ حادثے کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ ہائی ٹینشن لائن کی اونچائی اور حفاظتی معیارات میں کہیں کوئی لاپرواہی تو نہیں ہوئی۔ ادھر، واقعے کا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے۔ اس میں کرنٹ لگنے کے بعد جلوس میں افرا تفری کا ماحول دکھائی دے رہا ہے۔ لوگ چیختے چلاتے نظر آ رہے ہیں، جبکہ کئی لوگ زمین پر پڑے نظر رہے ہیں۔ آس پاس کے لوگ زخمیوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن