
نئی دہلی، 26 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی دوائیوں کے ضوابط میں تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔ صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت نے ڈرگس رولز، 1945 میں ترامیم کے مسودے کو مطلع کرتے ہوئے اس پر عام لوگوں اور شراکت داروں سے تجاویز اور اعتراضات طلب کیے گئے ہیں۔
مجوزہ ضوابط کے تحت، اب زیادہ تر دوائیوں کو ملک میں داخل ہونے پر کم از کم 12 ماہ کی شیلف لائف باقی رہناکافی ہوگا۔ فی الحال، یہ لازمی ہے کہ دوا کی کل شیلف لائف کا 60 فیصد سے زیادہ باقی ہو۔ تاہم، حیاتیاتی ادویات اور ریڈیو فارماسیوٹیکلز کے لیے موجودہ 60 فیصد شیلف لائف کی لازمی میعاد برقرار رہے گی اور اس میںکوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
وزارت صحت کی آج کی ریلیز کے مطابق، یہ تبدیلی فارماسیوٹیکل سپلائی چین کو مزید موثر بنائے گی، ضیاع کو کم کرے گی اور کمپنیاں اپنے اسٹاک کا بہتر انتظام کر سکیں گی۔ اس سے اخراجات میں کمی اور ضروری ادویات کی دستیابی میں بہتری کی توقع ہے۔
وزارت نے واضح کیا کہ یہ ترمیم صرف درآمد کے وقت ادویات کی باقی ماندہ شیلف لائف سے متعلق ہے۔ ادویات کے معیار، حفاظت اور افادیت سے متعلق تمام موجودہ معیارات اور ضوابط پہلے کی طرح موثر رہیں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد