
بنگلہ دیش میں پولیس پر عوامی لیگ کے تین کارکنوں کے قتل کا الزام
ڈھاکہ، 26 جون (ہ س)۔ بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پارٹی عوامی لیگ کے تین کارکنوں کی ’’موت‘‘ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اس میں پولیس کی سازش ہے اور تینوں کا قتل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چار دن کے اندر پولیس کی کارروائی سے متعلق مختلف واقعات میں ان کی موت ہو گئی۔ لوگوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔
ڈھاکہ ٹریبیون اخبار کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعات 21 جون سے 25 جون کے درمیان باریسال، فرید پور اور چٹاگانگ میں پیش آئے۔ ان میں وارڈ سطح کے عوامی لیگ رہنما، چھاترا لیگ کے کارکن اور جوبو لیگ کے رہنما شامل ہیں۔ حکام نے ہر معاملے میں الگ الگ وجوہات بتائی ہیں، لیکن اہل خانہ اور سیاسی حامیوں نے ان اموات کے حالات پر سوال اٹھائے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ بدھ کا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ چٹاگانگ کے ستکانیا ذیلی ضلع میں ڈھیمشا یونین جوبو لیگ کے جوائنٹ کنوینر نورالعالم کی موت ہو گئی۔ انہیں دھماکہ خیز مواد کے معاملے میں جیل بھیجے جانے کے ایک دن سے بھی کم وقت کے بعد چٹاگانگ سینٹرل جیل سے چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال لے جایا گیا تھا۔
جیل حکام نے بتایا کہ نورالعالم نے بدھ کی صبح طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی۔ پہلے ان کا علاج جیل کے اسپتال میں ہوا اور پھر انہیں چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال ریفر کر دیا گیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔ جیل حکام کے مطابق، ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں موت کی وجہ سانس لینے میں تکلیف بتائی گئی ہے۔ ان کے خاندان نے سرکاری وضاحت کو مسترد کر دیا اور الزام لگایا کہ منگل کو ڈیٹیکٹو برانچ پولیس نے انہیں گرفتار کیا تھا اور ان کا ’’سازش کے تحت قتل‘‘ کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ فرید پور کے مدھوکھالی کے چھاترا لیگ کارکن مرزا اشتیاق احمد کی موت کے بعد پیش آیا۔ مرزا کی اتوار کو موت ہو گئی تھی۔ ان کے خاندان کے مطابق، اشتیاق کو ہفتے کی دوپہر ضلع ڈیٹیکٹو برانچ نے گرفتار کیا تھا اور ماں کے سامنے اسے پیٹا گیا تھا۔ اگلی صبح فرید پور میڈیکل کالج اسپتال میں ان کی موت ہو گئی۔ پولیس نے ان کی موت کی وجہ عام نہیں کی ہے۔ اس واقعے کے بعد مدھوکھالی میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ مقامی لوگوں نے خاندان کی درخواست پر ناکہ بندی ہٹانے سے پہلے تقریباً 40 منٹ تک ڈھاکہ-کھلنا ہائی وے جام رکھا۔
اس واقعے کے بعد منگل کو فرید پور ڈی بی صدر زون کے انچارج افسر سید محمد عالمگیر حسین کو ہٹا کر انہیں پولیس لائن بھیج دیا گیا۔ حکام نے اس کے لیے ’’انتظامی وجوہات‘‘ کا حوالہ دیا۔ ان تینوں واقعات میں سے پہلا واقعہ اتوار کو باریسال میں پیش آیا، جہاں وارڈ نمبر 1 عوامی لیگ کے جنرل سکریٹری راشد خان مینن کی موت ہو گئی۔ الزام ہے کہ پولیس کے چھاپے کے دوران گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں ان کی موت ہوئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ راشد چھتوں کے راستے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے، تبھی وہ پھسل گئے، ان کے سر پر چوٹ لگی اور وہ گر پڑے۔ بعد میں مقامی اسپتال میں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان تینوں واقعات میں سے کسی کی بھی آزادانہ جانچ کا اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن