ڈاکٹر ماہ رنگ کو سزا کے خلاف بلوچستان میں احتجاج جاری، فیصلہ سنانے والے جج کی ترقی
اسلام آباد، 28 جون (ہ س): کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے لاپتہ بلوچ افراد کے حق میں آواز اٹھانے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف بلوچستان میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران یہ اطلاع سام
ڈاکٹر ماہ رنگ کو سزا کے خلاف بلوچستان میں احتجاج جاری، فیصلہ سنانے والے جج کی ترقی


اسلام آباد، 28 جون (ہ س): کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے لاپتہ بلوچ افراد کے حق میں آواز اٹھانے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ کو عمر قید کی سزا سنائے جانے کے خلاف بلوچستان میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ فیصلہ سنانے والے جج محمد علی مبین کو بلوچستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش منظور کر لی گئی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایک سرکاری ادارے نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور بلوچستان ہائی کورٹ کو ایک تجویز ارسال کی ہے، جس میں جج محمد علی مبین کو ہائی کورٹ میں ترقی دے کر جج مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے اس تجویز سے اتفاق کر لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ کے بعض سینئر ججوں نے ایک جونیئر جج کو ترقی دیے جانے پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اس فیصلے سے متفق ہیں۔ آئندہ چند روز میں بلوچستان ہائی کورٹ محمد علی مبین سمیت کئی دیگر ججوں کو بطور جج مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر ککڑ نے سوشل میڈیا پر خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سبغت اللہ شاہ کو سزا سنانے والے جج محمد علی مبین کو بلوچستان ہائی کورٹ میں جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو گوادر احتجاج کے دوران ایک فوجی کی ہلاکت کے مقدمے میں دہشت گردی اور بغاوت کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے دونوں رہنماؤں کو دی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ ہفتہ کے روز کیچی کے علاقے بیگ کمالو گاؤں تک ایک ریلی نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ جمعہ کی شب کوئٹہ میں بھی بڑی تعداد میں افراد سریاب روڈ پر جمع ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ مظاہرین نے بلوچ رہنماؤں کے لیے انصاف کا بھی مطالبہ کیا۔

گزشتہ برس نوبیل امن انعام کے لیے نامزد ہونے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بلوچ تحریک کی نمایاں ترین رہنماؤں میں شمار کی جاتی ہیں۔ انہیں بلوچستان کی شیرنی بھی کہا جاتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande