
تہران،28جون(ہ س)۔امریکا اور ایران کے درمیان دو دن میں دوسری بار جوابی حملوں کے تبادلے کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی فوج کی جانب سے ایرانی ساحل کے متعدد مقامات پر حملوں کے بعد مذاکراتی عمل روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔پاسداران نے آج اتوار کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی مفاہمتی یادداشت کی شق اول کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل مکمل طور پر معطل ہو سکتا ہے۔بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے انتظامات ایران کے پاس ہیں اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ انتظامات 18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ہیں۔اس کے علاوہ پاسدارانِ انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا، چاہے وہ معمولی اہداف پر ہی کیوں نہ ہو، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں ہماری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کے ساتھ پہلے سے زیادہ سختی سے نمٹا جائے گا۔
ادھر امریکی فوج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اعلان کیا کہ اس نے جزیرہ قشم میں فضائی حملے کیے ہیں، یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز پر حملے کے چند گھنٹے بعد کی گئی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے بیان میں کہا کہ کل امریکی حملوں کے بعد، جو بحری جہاز ''ایور لیولی'' پر ایرانی حملے کے جواب میں کیے گئے تھے، ایران کو جنگ بندی کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے اس کی خلاف ورزی کی اور آج صبح ڈرونز کے ذریعے تیل بردار جہاز'' کی کو'' کو نشانہ بنایا۔یہ اس وقت سامنے آیا ہے، جب واشنگٹن عمان کے ساحل کے ساتھ ایک جنوبی بحری راستے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ بحری جہاز اس کے کنٹرول والے پانیوں سے گزرتے ہوئے شمالی راستہ اختیار کریں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کا مقصد بالآخر آبنائے ہرمز کے استعمال پر فیس یا محصولات عائد کرنا ہے۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے ،جب ایک ہفتہ قبل سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا ایک دور ہوا تھا، جس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے زیرِ قیادت اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی شرکت سے ثالثی کی گئی تھی۔ان مذاکرات کے بعد واشنگٹن نے ایران پر جزوی طور پر پابندیاں نرم کی تھیں، تاہم اس کے بعد لڑائی اور الزامات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا اور وقت کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan