امریکی صدر کاایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کا انتباہ
واشنگٹن،28جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر امریکا کو دوبار
امریکی صدر کاایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کا انتباہ


واشنگٹن،28جون(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے اتوار کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر امریکا کو دوبارہ فوجی آپشن اختیار کرنا پڑا تو ایران کا وجود مٹ جائے گا،اس کے اقدامات واشنگٹن کو دانشمندانہ طرزِ عمل ترک کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیاروں نے جنگ بندی معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی پر ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے ساتھ ساتھ ساحلی ریڈار تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ بہت ممکن ہے کہ وہ کبھی سبق نہ سیکھیں۔ٹرمپ نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا نے کشیدگی بڑھانے کا فیصلہ کیا تو ایران باقی نہیں رہے گا۔ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہم مزید تحمل اور معقولیت کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور ہمیں وہ مشن فوجی طاقت کے ذریعے مکمل کرنا پڑے جس کا ہم نے کامیاب آغاز کیا تھا۔ اگر ایسا ہوا تو ایران قائم نہیں رہے گا۔اس سے قبل امریکی فوج نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹوں بعد ایران پر دوبارہ حملے کیے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عارضی امن معاہدے کے بعد اب تک کی شدید ترین کشیدگی قرار دی جا رہی ہے۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے، جس پر تقریباً دو ہفتے قبل چار ماہ سے جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اتفاق کیا گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کی افواج نے نئے حملے اس وقت کیے جب پاناما کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو ہفتے کی صبح مبینہ طور پر ایرانی ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اتوار کی صبح اطلاع دی کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کا موقع دیا گیا تھا، لیکن اس نے اس پر عمل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔بیان کے مطابق یہ حملے تجارتی جہاز رانی کے خلاف ایران کی مسلسل جارحیت کے براہِ راست جواب میں کیے گئے، جن میں ایرانی فوجی نگرانی، مواصلاتی نظام، فضائی دفاع، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور بارودی سرنگیں بچھانے سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔بعد ازاں فاکس نیوز نے ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران میں مقررہ اہداف پر کیے گئے امریکی حملے مکمل ہو چکے ہیں۔واشنگٹن نے اس سے قبل کہا تھا کہ اس نے رات کے وقت ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کا کہنا تھا کہ اس نے ہفتے کے روز اس کے جواب میں امریکی افواج سے منسلک اہداف پر حملے کیے۔ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر پر حملہ، جمعرات کو ایک مال بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد پیش آیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ایران نے ایک بار پھر دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے، آبنائے ہرمز، پر اپنی گرفت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ یہ آبی گزرگاہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کئی ماہ کی بندش کے بعد دوبارہ بحال کی گئی تھی۔برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بتایا کہ ہفتے کو نشانہ بننے والے آئل ٹینکر کے کمانڈ روم کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔ادھر بحری جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم مشترکہ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی خطرے کی سطح بڑھا دی ہے۔ایران نے مخصوص بحری جہازوں پر حملوں کی خبروں پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایرانی سرکاری ٹیلی ویڑن نے رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایسے بحری جہازوں کی جانب ''انتباہی فائرنگ'' کی جو ایران کی منظور شدہ بحری گزرگاہوں کے بجائے دیگر راستوں سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔رپورٹ کے مطابق اس کے بعد دیگر جہازوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے سے پہلے ایران سے اجازت نامے حاصل کرنا شروع کر دیے ہیں۔اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ایران نے دفاعی کارروائی کے طور پر امریکا سے منسلک فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔دوسری جانب بحرین، جہاں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا تعینات ہے، نے دعویٰ کیا کہ اس پر ایرانی ڈرون حملہ ہوا ہے۔ تاہم امریکی فوج نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ٰایران نے امریکا پر عارضی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande