
اسلام آباد، 28 جون (ہ س)۔ پاکستان کے صوبۂ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ہفتہ کی رات سندھ رینجرز ہیڈ کوارٹر پر ہوئے عسکریت پسندانہ حملے میں تین جوانوں کی جان چلی گئی۔ اس دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔ ایک حملہ آور کو زخمی حالت میں زندہ پکڑ لیا گیا۔ پاکستانی فوج کے میڈیا اور رابطہ عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر نے اس کی تصدیق کی۔
پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس پی آر کی ریلیز میں کہا گیا کہ سیکورٹی فورسز نے سندھ رینجرز ہیڈ کوارٹر پر عسکریت پسندانہ حملے کو ناکام بنا دیا۔ یہ حملہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ عسکریت پسند تنظیم جماعت الاحرار نے کیا۔ عسکریت پسندوں نے ہفتہ کی رات تقریباً 8.30 بجے کراچی کے گنجان آباد علاقے گلستانِ جوہر میں واقع سندھ رینجرز کے مقامی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا۔
سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید عالم اوڈھو نے دیر رات حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں رینجرز کے تین جوان شہید ہو گئے۔ صوبائی پولیس چیف نے کہا کہ حملہ آوروں نے سب سے پہلے اپنی گاڑی احاطے کے مین گیٹ سے ٹکرا دی۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے کمانڈوز، اینٹی ٹیررسٹ فورس اور رینجرز کے جوانوں نے مستعدی سے مورچہ سنبھالا۔
اس حملے کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک جماعت الاحرار نے لی ہے۔ یہ گروپ حالیہ برسوں میں بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں سرگرم رہا ہے اور عام شہریوں، سیکورٹی اہلکاروں اور سرکاری افسران کو نشانہ بناتا رہا ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں کم از کم چار رینجرز جوان شہید ہوئے ہیں۔ اہلکار نے کہا، ’’پنج عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں اور چھٹے عسکریت پسند کی لاش بھی مل گئی ہے۔ جس عسکریت پسند کی لاش ملی ہے، وہ خودکش حملہ آور ہے۔‘‘ ایک اور ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایک عسکریت پسند کو زندہ اور ایک عسکریت پسند کو زخمی حالت میں بھی پکڑا گیا ہے۔
کراچی میں اس سے پہلے بڑا عسکریت پسندانہ حملہ 6 اکتوبر 2024 کو ہوائی اڈے کے پاس ہوا تھا۔ اس میں ایک شخص کی موت ہو گئی تھی اور غیر ملکی شہریوں سمیت 11 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے لی تھی۔ فروری 2023 میں عسکریت پسندوں نے شاہراہِ فیصل پر کراچی پولیس آفس پر حملہ کر کے چار لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے منسلک تین عسکریت پسند بھی مارے گئے تھے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ سیکورٹی رپورٹ کے مطابق، لگاتار دو مہینوں تک بہتری کے بعد مئی میں پاکستان کی سیکورٹی صورتِ حال تیزی سے خراب ہوئی اور اسی دوران یہ تازہ حملہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، مئی میں پاکستان میں 128 عسکریت پسندانہ حملے ہوئے۔ اس سے پہلے اپریل میں 101 حملے ہوئے تھے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن