


آسام میں دھنسری ندی پر تعمیر کردہ نئے آر سی سی پل اور پکی سڑک نے مشرقی کاربی آنگلونگ اور گولا گھاٹ کے 40 سے زیادہ گاوں کی زندگیوں کو بدل دیا
کاربی آنگلونگ، 26 جون (ہ س)۔ مرکزی حکومت کی وزارتِ ترقی پسماندہ علاقہ جاتِ شمال مشرق کی ’’نارتھ ایسٹ اسپیشل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اسکیم‘‘ (این ای ایس آئی ڈی ایس) کے تحت آسام کے مشرقی کاربی آنگلونگ اور گولا گھاٹ اضلاع کو جوڑنے کے لیے دھنسری ندی پر تعمیر کردہ نئے آر سی سی پل اور پکی سڑک نے مقامی 40 سے زیادہ گاوں کے تقریباً 45,000 لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ اس بنیادی ڈھانچہ جاتی پروجیکٹ کے مکمل ہونے سے مقامی قبائلی برادریوں اور گاوں والوں کی زندگی اب آسان، محفوظ اور خوشحال ہو گئی ہے۔
یہ پروجیکٹ مقامی گاوں والوں، طالب علموں، روزمرہ کام کرنے والے مزدوروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نعمت ثابت ہو رہا ہے۔ اس علاقے میں آئی اس وسیع تبدیلی پر مقامی گاوں والے نوول شیام کہتے ہیں کہ گزشتہ 30 سے 40 سالوں سے ہم سب یہاں صرف بانس کے عارضی پل (بمبو برج) کے سہارے جینے پر مجبور تھے۔ پورا راستہ ناہموار، کچا اور مٹی کا تھا، جس سے عام دنوں میں بھی چلنا انتہائی دشوار ہوتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مانسون کا موسم شروع ہوتے ہی جب ناگالینڈ کے لائیسینگ سے نکلنے والی سدا بہار دھنسری ندی میں سیلاب آتا تھا، تو ہمارا یہ پورا کا پورا علاقہ ملک کے دیگر حصوں سے پوری طرح کٹ جاتا تھا۔ اس دور میں مریضوں، بزرگوں اور حاملہ خواتین کو اسپتال لے جانے کے لیے ہمیں اپنی جان خطرے میں ڈال کر چھوٹی کشتیوں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ اب حکومت نے اس ندی پر ایک مضبوط آر سی سی پل کے ساتھ پکی سدا بہار سڑک تعمیر کر دی ہے، جس سے ہماری دہائیوں پرانی تکلیف اور مرکزی دھارے سے علیحدگی کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔
پروجیکٹ کی تعمیر سے پہلے جہاں سڑک اور پل نہیں ہونے سے فصلیں وقت پر بڑی منڈیوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں، وہیں اب اس راستے کے شروع ہونے سے مقامی کسانوں کے کل زرعی منافع میں 60 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی بڑی بہتری آئی ہے۔ پہلے مانسون کے دوران سیلاب آنے اور راستے پوری طرح کیچڑ میں تبدیل ہو جانے کے سبب بچے مہینوں تک اسکول کالج نہیں جا پاتے تھے، جس سے پڑھائی بیچ میں ہی چھوٹ جاتی تھی۔ اب محفوظ اور سدا بہار راستہ دستیاب ہونے کی وجہ سے طالب علم باقاعدگی سے تعلیمی اداروں میں جا رہے ہیں، جس سے طلبہ کی کل حاضری اور اعلیٰ تعلیم کی طرف رجحان میں 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پہلے اس کچے راستے پر مانسون میں آمد و رفت پوری طرح مسدود ہو جاتی تھی، لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ روزانہ اس راستے سے تقریباً 10 ہزار لوگ آسانی سے آ جا رہے ہیں۔
تجارت کی بات کریں تو شام 6 بجے کے بعد بھی اس نو تعمیر شدہ راستے سے تقریباً 200 سے زیادہ بھاری ٹرک چائے کی پتی، اگر کی لکڑی، بانس اور ربڑ لے کر ملک کی دیگر منڈیوں کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ اس پورے علاقے میں پہلے مقامی لوگوں کے پاس ندی پار کرنے کے لیے بانس کے خستہ حال ڈھانچے کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں تھا اور 10 کلومیٹر کے دائرے میں کوئی بھی پکا پل نہیں تھا، جو اب 102 میٹر لمبے جدید پل کی شکل میں بن کر تیار ہے۔
ایک اور مقامی رہائشی ابھیجیت دھولے نے کہا کہ اس نئے پل کے بننے سے دھنسری ندی کے دونوں کناروں کے لوگ ایک دوسرے سے براہِ راست، مستقل اور ہر موسم میں رابطے میں رہنے والے نظام سے مربوط ہو گئے ہیں۔ اب ہمارے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر جانے میں کوئی ہچکچاہٹ یا ڈر نہیں رہتا، کیونکہ راستے اب پوری طرح محفوظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کی مقامی تجارت بہت اچھی چلنے لگی ہے اور روزمرہ کے کام کاج اور کاروبار کے سلسلے میں لوگوں کا بین الاضلاعی آنا جانا پہلے کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے۔ سب سے بڑی راحت کی بات یہ ہے کہ اب ہمارے گاوں میں بنیادی صحت کی سہولیات آسانی سے دستیاب ہو گئی ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ایمبولینس یا دیگر گاڑیاں براہِ راست ہمارے دروازے تک آ جاتی ہیں۔
اس متمول جغرافیائی علاقے میں مقامی کسان بنیادی طور پر چائے، ربڑ، بانس اور اگر کی لکڑی جیسی فصلوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ اب اس سدا بہار پکی سڑک اور پل کے چالو ہونے کی وجہ سے نقل و حمل کے اخراجات میں بھاری کمی آئی ہے اور فصلوں کی بربادی پوری طرح رک گئی ہے۔ کاربی، اہوم، نیپالی، بورو، مسنگ، خام یانگ اور چائے کے باغات کی قبائلی برادریوں کے چھوٹے اور حاشیائی کسانوں کو اب ضلع ہیڈ کوارٹر ڈسٹرکٹ انڈسٹریز اینڈ کامرس سینٹر (دیفو)، گوہاٹی، گولا گھاٹ اور پڑوسی ریاست ناگالینڈ کے بڑے تجارتی مراکز تک براہِ راست اور تیز رفتار رسائی مل رہی ہے۔ انہیں اپنی سخت محنت کی پیداوار کے صحیح، شفاف اور بہتر دام بالکل وقت پر مل رہے ہیں۔
نقل و حمل اور رابطہ کا نظام بہتر ہونے سے بین الاضلاعی تجارت اور مقامی چھوٹی صنعتوں کی کاروباری سرگرمیوں کو زبردست رفتار ملی ہے۔ اس سے مقامی نوجوانوں اور سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) کے لیے خود انحصاری اور روزگار کے نئے مواقع مسلسل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس راستے کے تیار ہونے سے دیہی علاقے کے آخری سرے پر رہنے والے شہریوں تک حکومت کی مختلف فلاحی اسکیموں، ترقیاتی پروگراموں اور پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) جیسی شہری خدمات کی رسائی بھی بے حد شفاف اور آسان ہو گئی ہے۔
سیکورٹی، امن و امان اور علاقائی سیاحت کے فروغ کے لحاظ سے بھی یہ پروجیکٹ انتہائی تزویراتی اور اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ طویل عرصے تک عسکریت پسندی اور شورش سے متاثر رہے اس انتہائی حساس سرحدی علاقے میں سیکورٹی فورسز کو گشت کرنے میں بھاری جغرافیائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب اس جدید پل کے بن جانے سے آسام اور ناگالینڈ کی سرحد پر ہونے والی کسی بھی طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ اور دراندازی کو پوری طرح کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی تیز رفتار آمد و رفت یقینی ہو گئی ہے۔
ساتھ ہی، یہ آسان راستہ مقامی دیہی سیاحت اور ثقافتی وقار کو بھی نئی بلندی دے رہا ہے۔ اس پل کے چالو ہونے سے یہاں سے محض سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع مشہور گرم پانی (نامبور) وائلڈ لائف سینکچوری کے گرم پانی کے چشمے تک سیاحوں کی رسائی بہت آسان ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، یہاں سے صرف 8 کلومیٹر کی دوری پر دیوپانی میں واقع انتہائی قدیم اور تاریخی درگا مندر آنے والے تیرتھ یاتریوں اور عقیدت مندوں کی تعداد میں بھی بھاری اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے مقامی سطح پر ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور دستکاری کے کاروبار سے مربوط لوگوں کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
اس پروجیکٹ کی انتظامی اور تکنیکی تفصیلات کے مطابق، محکمۂ تعمیراتِ عامہ (سڑک)، حکومتِ آسام کے بار پاتھر ڈویژن کے ذریعے اس ’’آر سی سی برج نمبر 3/1 اور اپروچ روڈ‘‘ کی تعمیر نیشنل ہائی وے-39 (سیلونی جان اسٹیٹ ڈسپنسری) سے پنیا کا بستی ہوتے ہوئے دھنسری پار گھاٹ تک کل 4.00 کلومیٹر کی لمبائی میں کی گئی ہے، جس میں اہم پل کا اسپین 102 میٹر لمبا ہے۔ اس پروجیکٹ کو 20 اپریل 2022 کو 20.59 کروڑ روپے کی منظور شدہ لاگت کے ساتھ انتظامی منظوری اور مالیاتی منظوری ملی تھی۔ اس کا مادی تعمیراتی کام 19 اکتوبر 2022 کو شروع کیا گیا تھا۔ محکمہ کی طرف سے اسے پورا کرنے کی سرکاری مدتِ کار اکتوبر 2025 مقرر کی گئی تھی، لیکن انتظامی مستعدی کے باعث اسے وقت سے پہلے ہی جنوری 2025 میں 100 فیصد مکمل کر کے عوام کے حوالے کر دیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن