اے ایم یو کے پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے ہیلتھ کیئر میں مصنوعی ذہانت پرمبنی قومی فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام سے خطاب کیا
علی گڑھ, 13 جون (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ کے کالج آف فارمیسی کے زیرِ اہتمام منعقدہ نیشنل ورچوئل فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام بعنوان ‘‘اگل
اے ایم یو کے پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے ہیلتھ کیئر میں مصنوعی ذہانت پرمبنی قومی فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام سے خطاب کیا


علی گڑھ, 13 جون (ہ س)۔ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فارماکولوجی کے چیئرمین پروفیسر سید ضیاء الرحمٰن نے انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ کے کالج آف فارمیسی کے زیرِ اہتمام منعقدہ نیشنل ورچوئل فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگرام بعنوان ‘‘اگلی نسل کے طریق ہائے علاج: پریسیزن میڈیسن اور ادویات کی ترسیل کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال’’ میں بطور ریسورس پرسن خطاب کیا۔ پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے فارماکوویجیلنس میں سگنل کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مشین لرننگ اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کس طرح حقیقی دنیا کے صحت سے متعلق وسیع ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے ڈرگ سیفٹی مانیٹرنگ نظام میں انقلابی تبدیلی لا رہے ہیں۔

انہوں نے نادر اور پہلے سے غیر شناخت شدہ ادویاتی مضر اثرات کی نشاندہی میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو اجاگر کیا اور بین الاقوامی سطح کی معتبر تنظیموں، بشمول اُپسالا مانیٹرنگ سینٹر، یورپی میڈیسنز ایجنسی اور امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن میں استعمال ہونے والے جدید فارماکوویجیلنس ماڈلز کا حوالہ دیا۔ ڈاکٹر رحمٰن نے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت سگنل کی نشاندہی کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے، تاہم اہم ریگولیٹری فیصلے بدستور سائنسی بصیرت اور انسانی مہارت کی بنیاد پر ہی کیے جانے چاہئیں۔ پروفیسر رحمٰن اختتامی اجلاس کے مہمان اعزازی بھی تھے۔ پروگرام میں ملک بھر سے 51 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں پرنسپل صاحبان، شعبہ جات کے سربراہان اور اساتذہ شامل تھے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande