
نئی دہلی،13جون(ہ س)۔
کرشن لال نارنگ ساقی24 اگست1936کو پنجاب کے ضلع فیروز پور کے گاﺅں سوڑھی میں پیدا ہوئے۔ سوڑھی کے ایک اسکول میں انہوں نے ابتدائی تعلیم ارود کے ساتھ حاصل کی۔ ہائی اسکول اور بی اے کی تعلیم فیروز پور سے حاصل کی۔طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے ساقی کے نام سے رسالہ جاری کیا۔ جبھی سے ساقی ان کے نام کا جز بن گیا۔پہلے انہوں نے ہوٹل کا کاروبار کیا جس میں اردو کے ادیب و شاعر جمع ہوتے تھے ۔ کاروبار پہلے چنڈی گڑھ میں کیا اور بعد میں دہلی آگئے۔دہلی کے وہ مستقل مکین ہوگئے۔یہاں ان کی ملاقات کنور مہندر سنگھ بیدی سحر سے ہوئی،جن کے اردگرد اردو والے ہی رہتے تھے۔ بیدی صاحب کی عمر کے پچہتر ویں سالگرہ کا جشن منانے کے لیے کنور مہندر سنگھ لٹریری ٹرسٹ کا قیام عمل میں آیا۔بیدی صاحب نے انہیں ٹرسٹ کا جنرل سکریٹری بنایا اور نارنگ صاحب کے کناٹ پلیس آفسL4کناٹ پلیس ٹرسٹ کا صدر دفتر بنا۔نارنگ ساقی بہت ملنسار اور مہمان نواز تھے۔اپنے گھر پر پرتکلف ڈنر کا اہتمام کرتے تھے۔اردو لکھنے پڑھنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ ہمارے کنور صاحب،یادوںکا جشن اور دوسری کتابوں کی اشاعت کا انتظام کیا۔ انہیںطنز وظرافت سے خاص لگاﺅ تھا۔ ادیبوں کے لطیفے ان کی مشہور کتاب ہے۔ ٹرسٹ کے ذریعے وہ اردو ادیبوں وشاعروں کی مدد بھی کرتے تھے۔عمر کے آخری سال تک نشر واشاعت کاکام کرتے رہے۔17 دسمبر2025کو ان کی کتاب ”نارنگ ساقی ایک مطالعہ“ کے اجرا کا پروگرام انڈیا انٹر نیشنل سنٹر میں رکھا گیا تھا۔اسی رات ان کی طبیعت بگڑی تھی۔ وہیل چئیر کے سہارے کسی طرح پروگرام میں آسکے تھے۔اس کے بعد بستر علالت پر ہی رہے۔ اپنے چھوٹے بیٹے سنجیو نارنگ کے ساتھ فرید آباد میں رہتے تھے۔4 جون2026کوطبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے فرید آباد کے ایک اسپتال میں داخل کیا گیا۔5 جون2026کو انہوں نے آخری سانس لی۔ ان کی بیٹی امریکا میں ہے۔جس کا انتظار ہے۔اس لیے آخری رسومات لودھی روڈ شمشان گھاٹ میں بروز اتوار7جون 2026کوایک بجے ادا کی جائیں گی۔ ایشور ان کی آتما کو شانتی دے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais