
مرکز کی مدد سے بہار میں بنیادی ڈھانچے کی بے مثال توسیع : سنجے سراوگی
پٹنہ، 13 جون (ہ س)۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی نے بروز ہفتہ یہاں ایک پروگرام میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیش قیادت اور بہار میں ڈبل انجن حکومت کی مشترکہ کوششوں سے ریاست ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ آج بہار ترقی یافتہ ہندوستان کے عزم کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ہر شعبے میں بے مثال کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ سال 2014 سے 2024 کے درمیان بہار کو مرکزی حکومت سے تقریباً 9.23 لاکھ کروڑ روپے کی امداد اور مختلف اسکیموں کا فائدہ ملا ہے، جو سابقہ یو پی اے (متحدہ ترقی پسند اتحاد) کے دورِ حکومت کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔ یہ رقم بہار کے بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم، زراعت اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار میں سڑک رابطے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہوئے ہیں۔ دیہی سڑکوں کا نیٹ ورک 1.2 لاکھ کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے۔ ریاست میں پٹنہ-پورنیہ، بکسر-بھاگلپور، آمس-دربھنگہ، گورکھپور- سلی گوڑی، رکسول-ہلدیہ اور وارانسی-گیا-کولکاتا سمیت چھ بڑے ایکسپریس وے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے، جس سے بہار کی اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔
ریلوے کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار کو ریل بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کے منصوبے ملے ہیں۔ ریاست کے 198 ریلوے اسٹیشنوں کا امرت بھارت اسٹیشن اسکیم کے تحت جدید کاری کا کام کیا جا رہا ہے۔ اس سے مسافروں کو عالمی سطح کی سہولیات دستیاب ہوں گی اور علاقائی ترقی کو تقویت ملے گی۔
تعلیمی شعبے میں ہونے والی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر سنجے سراوگی نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ بڑھ کر 77,690 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ریاست میں تقریباً 94 ہزار اسکول چل رہے ہیں اور چھ لاکھ سے زیادہ اساتذہ کا تقرر اور خدمات تعلیمی نظام کو مضبوط بنا رہی ہیں۔ ہر پنچایت میں ہائی اسکول قائم کرنے کی سمت میں کام ہوا ہے۔ انجینئرنگ کالجوں کی تعداد 2 سے بڑھ کر 38، پولی ٹیکنک اداروں کی تعداد 13 سے بڑھ کر 46 اور آئی ٹی آئی اداروں کی تعداد 23 سے بڑھ کر 152 ہو گئی ہے۔
زرعی شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کسان سمان ندھی اسکیم کے تحت 76 لاکھ کسانوں کو فائدہ ملا ہے۔ نو لاکھ کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ کے ذریعے 8 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض فراہم کیا گیا ہے۔ مکھانا کو جی آئی ٹیگ ملنے، نیشنل مکھانا بورڈ کی تشکیل اور کوسی-میچی آبپاشی لنک پروجیکٹ جیسے اقدامات سے کسانوں کی آمدنی بڑھانے کی سمت میں اہم کام ہوئے ہیں۔
سنجے سراوگی نے واضح طور پر کہا کہ بہار آج سرمایہ کاروں کی پسندیدہ سرزمین بن رہا ہے۔ بہار انویسٹمنٹ سمٹ کے ذریعے تقریباً 2.3 لاکھ کروڑ روپے کے سرمایہ کاری کے معاہدے ہوئے ہیں۔ چمپارن اور بکسر میں خصوصی اقتصادی زون، مظفر پور اور کھگڑیا میں میگا فوڈ پارک، ایتھنول پالیسی اور ٹیکسٹائل، مینوفیکچرنگ و لیدر کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے امکانات نے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن