کوئی بھی تحقیق ترقی کے لیے کی جاتی ہے، اس کے پیچھے عوامی بہبود کا جذبہ ہوتا ہے: یوگی آدتیہ ناتھ
-وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے وگیان بھارتی کے ساتویں قومی کنونشن کا افتتاح کیا وارانسی، 13 جون )ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کوئی بھی تحقیق ترقی کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے عوامی فلاح کا جذبہ مضمرہوتا ہے۔ بالآخر، اس کا

BHU

-وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے وگیان بھارتی کے ساتویں قومی کنونشن کا افتتاح کیا

وارانسی، 13 جون )ہ س)۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ کوئی بھی تحقیق ترقی کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے پیچھے عوامی فلاح کا جذبہ مضمرہوتا ہے۔ بالآخر، اس کا مقصد قوم کو مضبوط اور بااختیار بنانا ہوتا ہے۔ وارانسی کے اپنے دو روزہ دورے کے آخری دن ہفتہ کو وزیر اعلیٰ بنارس ہندو یونیورسٹی اور ویدک سائنس سینٹر کی طرف سے مشترکہ طور پر منعقد کیے گئے وگیان بھارتی کے ساتویں قومی کنونشن کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیر اعلیٰ یوگی نے شمع روشن کرنے اور کنونشن کا افتتاح کرنے کے بعد وگیان بھارتی کی سالانہ رپورٹ بھی جاری کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ کاشی ہندو یونیورسٹی ہے۔ اس کے قیام کا مقصد کاشی کو علم و سائنس کی ایک شاخ کے طور پر اس کی شناخت دینا تھا، جس کے لیے ہمارا کاشی جانا جاتا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب ہم سائنس کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس کے نتائج اور اثرات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔ جدید سائنس کی تاریخ تقریباً 400 سے 500 سال پرانی ہے۔ جن ممالک نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں اپنا تسلط قائم کیا، دنیا میں ان کا غلبہ بھی ہو گیا۔

انہوں نے کہا کہ علم جہاں بھی آئے ،اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اسے صرف اپنا لینا کافی نہیں ہے۔ اس کے اصل جذبے اور مقصد کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری دنیا میں مسابقت اور تنازعات اسی مسئلے کے ارد-گرد گھوم رہے ہیں۔ جب ہم ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو ہم اس کی ترقی اور پیش رفت پر بھی بات کرتے ہیں۔ اگر ہم 2000 سال پہلے سے لے کر 15ویں-16ویں صدی تک ہندوستان کی شان کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ تقریباً 45 فیصد تھا۔ تقریباً 400 سال پہلے جب ملک غیر ملکی حملہ آوروں کے زیر اثر مشکل دور سے گزر رہا تھا، تب بھی عالمی معیشت میں ہندوستان کا حصہ 24-25 فیصد تھا۔ 1947 میں آزادی کے وقت یہ کم ہو کر محض 1.5 سے 2 فیصد رہ گئی تھی۔ دو ہزار سال قبل عالمی معیشت میں ہندوستان کا اتنا بڑا حصہ کیوں تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان اختراع پسند تھا۔

اس سے پہلے بی ایچ یو کے وائس چانسلر پروفیسر اجیت کمار چترویدی نے وزیر اعلیٰ کو شال پہنا کر استقبال کہا۔ قابل ذکر ہے کہ کنونشن کے افتتاحی اجلاس میں سائنس، ٹیکنالوجی، اختراعات اور قومی ترقی پر بات چیت ہوگی۔ دو روزہ قومی کنونشن میں ہندوستان اور بیرون ملک سے تقریباً 1,200 مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

وگیان بھارتی کے قومی تنظیم کے وزیر ڈاکٹر شیوکمار شرماکے مطابق کنونشن کا مقصد عصری سائنسی اور سماجی چیلنجوں پر بامعنی بات چیت کے ذریعے سائنسی طور پر بااختیار اور خود انحصار ہندوستان کے لیے ایک ایکشن پلان تیار کرنا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے ساتھ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ٓاکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل آمبیکر اور دیگر معززین بھی موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande