بی جے پی این ڈی اے حکومت 12 برسوں میں 89 پیپر لیک کا ریکارڈ بنا چکی ہے : راجیش رام
بی جے پی این ڈی اے حکومت 12 برسوں میں 89 پیپر لیک کا ریکارڈ بنا چکی ہے : راجیش رام پٹنہ، 13 جون (ہ س)۔ بہار ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش رام کی قیادت میں بہار کانگریس کے کارکنان نے مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم کا پتلا نذرِ آتش کیا۔ ریاستی کانگری
مظاہرہ اور وزیر اعظم کا پتلا نذرِ آتش


مظاہرہ اور وزیر اعظم کا پتلا نذرِ آتش


بی جے پی این ڈی اے حکومت 12 برسوں میں 89 پیپر لیک کا ریکارڈ بنا چکی ہے : راجیش رام

پٹنہ، 13 جون (ہ س)۔ بہار ریاستی کانگریس کمیٹی کے صدر راجیش رام کی قیادت میں بہار کانگریس کے کارکنان نے مظاہرہ کیا اور وزیر اعظم کا پتلا نذرِ آتش کیا۔ ریاستی کانگریس صدر راجیش رام نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں 89 امتحان کے سوالنامے لیک ہوئے ہیں اور خود این ٹی اے کے تحت نیٹ امتحان کے سوالنامے چار بار لیک ہو چکے ہیں، جس سے مرکزی امتحانی نظام کی غیر جانبداری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن بی جے پی کی قیادت والی مرکز کی مودی حکومت نے ایسا کرپٹ نظام بنا دیا ہے کہ امیر خاندانوں کے بچوں کو ہی میڈیکل سیٹیں اور نوکریاں ملیں گی، جبکہ غریب خاندانوں کے طلبہ کو امید کے سہارے ہر بار دھوکہ ہی کھانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی اس این ڈی اے حکومت میں تعلیمی نظام پوری طرح سے تباہ ہو چکا ہے۔ اس نظام کو بدلنے کے لیے اور طلبہ کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے مقصد سے کانگریس پارٹی لگاتار سڑکوں پر جدوجہد کر رہی ہے۔ آج بہار کے طلبہ کے حق کے لیے ہم سڑکوں پر ہیں۔ موجودہ حکومت کو فوراً این ٹی اے کے تحت منعقد ہونے والے نیٹ امتحان میں شفافیت لانی چاہیے اور پیپر لیک کا مسئلہ ختم کرنا چاہیے، نیز آئندہ 21 جون کو منعقد ہونے والے امتحان کے ساتھ مستقبل کے مقابلہ جاتی امتحانات کو لے کر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

ساتھ ہی سی بی ایس ای کا معاملہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ذہین طلبہ کے مستقبل کو خراب کرنے کا یہ طریقہ کار بی جے پی حکومت کے تعلیمی نظام کو اپاہج بنانے کی پالیسی کے تحت ہے تاکہ طلبہ کا مستقبل معلق رہے۔ کاپیوں کی جانچ اور نتائج کی اشاعت میں بھاری بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے والے طلبہ پر ہی مرکزی حکومت دباو بنا رہی ہے، جبکہ اپنے سسٹم میں موجود خرابیوں کی نشان دہی نہیں کر رہی ہے۔

ایوانِ بالا (ودھان پریشد) میں پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر مدن موہن جھا نے کہا کہ مرکز کی این ڈی اے حکومت نے گزشتہ 12 برسوں میں تعلیمی ڈھانچے کو برباد کر دیا ہے اور موجودہ وزیر تعلیم اخلاقی بنیادوں پر بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا تو دور، 22 لاکھ متاثرہ طلبہ سے ہمدردی کا اظہار کرنے کی بھی زحمت نہیں اٹھاتے ہیں۔ ان کی یہ بے رخی بتانے کے لیے کافی ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے انہیں تعلیمی سرگرمیوں کو برباد کرنے کی ہی ذمہ داری دے رکھی ہے اور اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ان سے استعفیٰ نہیں مانگا۔

راجا پور پل کی طرف بڑھ رہے مظاہرین کو پولیس نے گوسائی ٹولہ سے آگے مرین ڈرائیو چوراہے پر طاقت کے بل پر روک دیا۔ اس سے ناراض مظاہرین وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے خلاف فلک شگاف نعرے لگانے لگے۔

کانگریس کے کارکنان نے اس دوران ارتھی جلوس بھی نکال کر اپنی مخالفت درج کرائی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande