غریب اور محروم طبقات کی ترقی ہی حقیقی فلاحی ریاست کی پہچان ہے: ڈاکٹر محمد سہیل اختر
علی گڑھ 13 جون (ہ س)۔ معروف ماہرِ تعلیم و سماجی کارکن ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کہا ہے کہ ایک منصفانہ، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے سماجی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کا مضبوط نظام ناگزیر ہے۔ کسی بھی ملک یا معاشرے کی پائیدار ترقی اسی و
محمد سہیل اختر


علی گڑھ 13 جون (ہ س)۔ معروف ماہرِ تعلیم و سماجی کارکن ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کہا ہے کہ ایک منصفانہ، ترقی یافتہ اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لیے سماجی تحفظ اور عوامی فلاح و بہبود کا مضبوط نظام ناگزیر ہے۔ کسی بھی ملک یا معاشرے کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اس کے تمام شہریوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات تک مساوی رسائی حاصل ہو۔انہوں نے کہا کہ جدید جمہوری ریاستیں غربت کے خاتمے، غذائی تحفظ، صحت کی بہتر سہولیات، تعلیم کے فروغ اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف فلاحی منصوبے نافذ کرتی ہیں۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات کو بااختیار بنانا اور انہیں ترقی کے مرکزی دھارے سے جوڑنا ہوتا ہے۔ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کہا کہ فلاحی ریاست کا تصور سماجی انصاف، مساوی مواقع، انسانی وقار اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی ہے۔ ایک مؤثر فلاحی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ معاشرے کے غریب، بزرگ، خواتین، معذور افراد، یتیم بچے، مزدور اور دیگر محروم طبقات کو ضروری سہولیات اور مواقع میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں عوامی تقسیم نظام، صحت بیمہ، تعلیمی وظائف، روزگار گارنٹی پروگرام، خواتین کی فلاح و بہبود اور مالی شمولیت سے متعلق مختلف سرکاری اسکیمیں معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم ان منصوبوں کی کامیابی صرف پالیسی سازی پر منحصر نہیں بلکہ ان کی مؤثر عمل آوری، شفافیت، رسائی اور عوامی بیداری پر بھی منحصر ہے۔ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے کہا کہ آج بھی بہت سے مستحق افراد ضروری دستاویزات کی عدم دستیابی، معلومات کی کمی، ڈیجیٹل سہولیات تک محدود رسائی اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے سرکاری فلاحی اسکیموں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں، پسماندہ بستیوں اور پردیسی مزدوروں کو مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان اور سماجی کارکن اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ عوام کو مختلف سرکاری اسکیموں کے بارے میں آگاہ کر سکتے ہیں، ضروری دستاویزات کے حصول میں رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں اور مستحق افراد کو ان کے حقوق اور مواقع تک پہنچانے میں معاون بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر محمد سہیل اختر نے مزید کہا کہ ایک مضبوط اور کامیاب فلاحی نظام کے لیے ضروری ہے کہ پالیسیوں کو عوام دوست بنایا جائے، انتظامی رکاوٹوں کو کم کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر شہری تک بلا امتیاز سرکاری سہولیات اور فلاحی فوائد پہنچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اگر معاشرہ تعلیم، روزگار، سماجی شعور اور عوامی فلاح کے میدان میں اجتماعی طور پر کام کرے تو ایک مضبوط، خوشحال اور مساوی مواقع فراہم کرنے والا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande