
بہار کی خوشحالی سے ہی ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا: سمراٹ چودھری
۔ ’بھروسے کی چوائس پٹنہ ایڈیشن‘ میں وزیر اعلیٰ نے ترقی کا وژن پیش کیا
پٹنہ، 13 جون (ہ س)۔ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بروز ہفتہ راجدھانی پٹنہ کے باپو جلسہ گاہ میں منعقدہ ’بھروسے کے چوائس پٹنہ ایڈیشن‘ کے 11 ویں ایڈیشن کا افتتاح کرتے ہوئے ریاست کی ترقی، سرمایہ کاری، صنعت، سیاحت اور گڈ گورننس کو لے کر حکومت کی ترجیحات کو تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب تبھی شرمندۂ تعبیر ہوگا، جب بہار اقتصادی، سماجی اور صنعتی طور پر خوشحال بنے گا۔
پروگرام کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بہار کی شاندار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو ہزار سال پہلے بہار علم، ثقافت، حکومت اور تہذیب کا اہم مرکز تھا۔ اس زمین نے ملک کو سنہری دور دیا اور طویل عرصے تک ملک کو سمت دینے کا کام کیا۔ ایک بار پھر بہار کے تاریخی ورثے اور ثقافتی فخر سے ترغیب لے کر ریاست کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔
سمراٹ چودھری نے بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ریاست کی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی تھی۔ حالانکہ، سال 1962 سے 1990 کے درمیان سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ترقی کی رفتار متاثر ہوئی، لیکن اب ریاستی حکومت طویل مدتی منصوبوں کے ذریعے بہار کو نئی سمت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ترقی کے دھارے سے جوڑنا حکومت کی ترجیح ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ریاست کے پیشہ ور طبقے، خاص طور پر چارٹرڈ اکاونٹنٹ، کمپنی سکریٹری، اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین اور مالیاتی مشیروں سے بہار کی ترقی میں تعاون دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان ماہرین کا تجربہ اور علم ریاست کی ترقی میں لگے، تو بہار ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں حکومت کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ بہار کی تقریباً 85 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور دیہی سڑکوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے لیے لگاتار کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج بہار ملک کے بہترین دیہی سڑک نیٹ ورک والی ریاستوں میں شامل ہے۔
سمراٹ چودھری نے ایک پرجوش منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ریاستی حکومت 12 نئی جدید ٹاون شپ تیار کرنے کی سمت میں تیزی سے کام کر رہی ہے۔ تقریباً 6 لاکھ 25 ہزار ایکڑ اراضی پر مجوزہ ان منصوبوں میں قریب 6.5 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ ان ٹاؤن شپ میں صنعتی راہداری (انڈسٹریل کوریڈور)، انڈسٹریل پارک، جدید رہائشی علاقے، صحت کی سہولیات، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی ڈھانچے تیار کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اراضی کے حصول کی صورت میں متاثرہ لوگوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے گا۔
صنعت اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ریاستی حکومت کی طرف سے کی گئی اصلاحات کی معلومات دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حال ہی میں کابینہ نے ایز آف ڈوئنگ بزنس کو مضبوط کرنے کے لیے کئی اہم فیصلے لیے ہیں۔ اب صنعت قائم کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں اور فائر بریگیڈ کے محکمے سے ضروری منظوری نامے 30 دنوں کے اندر فراہم کرنے کا نظام لاگو کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے دفتر کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ اگر مقررہ وقت کے اندر درخواست پر کارروائی نہیں ہوتی ہے تو متعلقہ اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا اور ریاست میں صنعتی سرمایہ کاری کو نئی رفتار ملے گی۔ امن و امان پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت جرائم پر قابو پانے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کوئی مجرم قانون کو چیلنج کرتا ہے تو پولیس 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر مؤثر کارروائی کرتی ہے۔ جرائم اور مجرمانہ نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ریاستی پولیس لگاتار مہم چلا رہی ہے۔
سیاحت کے شعبے کے امکانات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار تاریخی، مذہبی اور ثقافتی نقطۂ نظر سے انتہائی خوشحال ریاست ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری افسران اور ملازمین کے لیے بہار کے سفر کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے، تاکہ وہ ریاست کے ورثے اور سیاحتی مقامات کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔ انہوں نے والمیکی نگر ٹائیگر ریزرو، راجگیر، بھیم باندھ، مونگیر کے یوگا سینٹر، وکرم شیلا یونیورسٹی، پنوورا دھام، بودھ گیا اور گیا جی جیسے اہم سیاحتی و مذہبی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان مقامات کو قومی اور بین الاقوامی سیاحتی نقشے پر قائم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ جین برادری کے عقیدے کو دھیان میں رکھتے ہوئے شیتلا مندر کے پیچھے تقریباً 200 کروڑ روپے کی لاگت سے بھگوان مہاویر کا شاندار مندر زیرِ تعمیر ہے۔ یہ منصوبہ اگلے چھ مہینوں میں مکمل ہو جائے گا، جس سے مذہبی سیاحت کو نئی رفتار ملے گی اور جین عقیدت مندوں کے لیے ایک اہم روحانی مرکز تیار ہوگا۔
پروگرام کے اختتام پر وزیر اعلیٰ نے نوجوانوں، صنعت کاروں، پیشہ ور افراد اور عام شہریوں سے بہار کی ترقی کی مہم میں سرگرم حصہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اجتماعی کوششوں، گڈ گورننس، سرمایہ کاری اور ترقیاتی پالیسیوں کے بل بوتے پر بہار آنے والے برسوں میں ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں اپنی مضبوط شناخت قائم کرے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن