
جموں, 04 مئی (ہ س)۔ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے چار نوجوان عقیدت مند شدید گرمی اور دشوار گزار راستوں کے باوجود بابا امرناتھ کے درشن کے لیے گزشتہ نو ماہ سے زائد عرصے سے منفرد “دنڈوت پرنام” یاترا پر گامزن ہیں۔ اس یاترا کے ذریعے وہ سناتن دھرم کا پیغام عام کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کا عزم رکھتے ہیں۔رامبن ضلع میں جموں سری نگر قومی شاہراہ پر یہ نوجوان مکمل جسم کے ساتھ زمین پر سجدہ کرتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی منزل جنوبی کشمیر کے پہاڑی سلسلے میں واقع مقدس امرناتھ غار ہے، جہاں تقریباً 3880 میٹر کی بلندی پر قدرتی برفانی شیو لنگم موجود ہے۔یاتریوں میں مدھیہ پردیش کے جتیندر راجپوت، روہت رائے اور ناین جین شامل ہیں، جبکہ امت راجپوت اتر پردیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے تینوں نوجوانوں نے 3 ستمبر 2025 کو جبکہ امت راجپوت نے 23 جولائی 2025 کو اس سفر کا آغاز کیا تھا۔امت راجپوت نے بتایا کہ ہم بابا برفانی کا آشیرواد حاصل کرنے کے لیے دنڈوت پرنام یاترا کر رہے ہیں، جو ہماری دیرینہ خواہش تھی اور اب تک نو ماہ سے زیادہ کا سفر مکمل کر چکے ہیں۔
روایتی یاترا کے برعکس، یہ نوجوان ہر قدم پر مکمل سجدہ کرکے آگے بڑھتے ہیں اور وقفے وقفے سے آرام کرتے ہیں۔ روہت رائے کے مطابق، ہماری روزمرہ زندگی اسی عمل کے گرد گھوم رہی ہے کہ ہم زمین پر لیٹتے، اٹھتے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہیں۔یہ نوجوان ایک سائیکل پر محدود سامان، جن میں کمبل، پانی اور خوراک شامل ہے، ساتھ لے کر سفر کر رہے ہیں اور شدید موسمی حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔ تمام مشکلات کے باوجود وہ بابا برفانی کا ورد کرتے ہوئے اپنا حوصلہ بلند رکھے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سالانہ امرناتھ یاترا 3 جولائی سے شروع ہو کر 28 اگست کو رکشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی، جس کے لیے پہلگام اور بالتل دونوں راستے استعمال کیے جائیں گے۔نوجوانوں نے کہا کہ ان کی یاترا کا مقصد نہ صرف روحانی سکون حاصل کرنا ہے بلکہ ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب ہمیں امن اور ہم آہنگی کا درس دیتا ہے، نفرت پھیلانے والے لوگ اصل تعلیمات سے ناواقف ہیں۔رامبن سے گزرتے ہوئے ان نوجوانوں کی حالت ان کی سخت محنت اور عزم کی عکاس ہے، جبکہ ان کا پیغام اس یاترا کو عقیدت اور سماجی ہم آہنگی کی ایک زندہ مثال بنا رہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر