ہماچلبلدیاتی انتخابات: بی جے پی اور کانگریس کے لیے لٹمس ٹیسٹ، نتائج اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ماحول کا تعین کریں گے۔
شملہ، 3 مئی (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ ان انتخابات کو اگلے سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی سیمی فائنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
الیکشن


شملہ، 3 مئی (ہ س)۔ ہماچل پردیش میں آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات بی جے پی اور کانگریس دونوں کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ ان انتخابات کو اگلے سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سیاسی سیمی فائنل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات پارٹی کے نشانات پر لڑے جائیں گے جس سے ان کی سیاسی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

حالانکہ ریاست میں پنچایتی انتخابات ایک ساتھ ہورہے ہیں لیکن سیاسی پارٹیاں خاص طور پر شہری باڈی انتخابات پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ میونسپل کونسل اور نگر پنچایت کے انتخابات پارٹی کے نشانات پر نہیں ہوئے ہیں لیکن بی جے پی اور کانگریس دونوں نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں ان انتخابات کو اپنی طاقت کا براہ راست امتحان سمجھ رہی ہیں۔

اس بار ریاست میں چار میونسپل کارپوریشنوں: منڈی، سولن، پالم پور اور دھرم شالہ میں انتخابات ہو رہے ہیں۔ 2021 میں ہوئے آخری میونسپل کارپوریشن انتخابات میں، بی جے پی نے دھرم شالہ اور منڈی میں کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ کانگریس نے پالم پور اور سولن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس وقت ریاست میں بی جے پی کی حکومت تھی جبکہ اس بار کانگریس اقتدار میں ہے۔ اس لیے یہ انتخابات اس بات کی بھی نشاندہی کریں گے کہ اقتدار کی تبدیلی کے بعد شہری ووٹر کس پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کانگریس پارٹی نے ان انتخابات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور اپنے تجربہ کار لیڈروں اور وزراءکو ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ وزیر تعلیم روہت ٹھاکر کو سولن، تعمیرات عامہ کے وزیر وکرمادتیہ سنگھ کو منڈی، تکنیکی تعلیم کے وزیر راجیش دھرمانی کو پالم پور اور ایچ پی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے چیئرمین آر ایس بالی کو دھرم شالہ میونسپل کارپوریشن کے لیے ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

بی جے پی نے بھی مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ پون کاجل اور سدھیر شرما کو دھرم شالہ، وپن پرمار اور راجیش ٹھاکر کو پالم پور، پائل ویدیا اور انیل شرما کو منڈی، اور سنجیو کٹوال اور بلبیر ورما کو سولن کا کام سونپا گیا ہے۔

ان انتخابات کے نتائج نہ صرف مقامی سطح پر قیادت کا تعین کریں گے بلکہ موجودہ سکھو حکومت کی پالیسیوں اور کارکردگی سے ریاست کے عوام کے اطمینان کو بھی ظاہر کریں گے۔ حکومت اس سال کے بجٹ میں کوئی خاص ریلیف دینے میں ناکام رہی، یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر اپوزیشن مسلسل حملہ کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی کا دعویٰ ہے کہ مرکزی حکومت کے سوتیلے سلوک اور ریونیو خسارے کی گرانٹ بند کرنے سے ریاست کی معاشی صورتحال متاثر ہوئی ہے، جب کہ بی جے پی مرکزی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت پر الزام لگا رہی ہے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ انتخابی عمل کے حصے کے طور پر ریاست کے 51 شہری اداروں کے لیے کل 1426 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیے ہیں۔ ان میں چار میونسپل کارپوریشن، 25 میونسپل کونسل اور 22 نگر پنچایتیں شامل ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ 4 مئی کو ہوگی اور امیدوار 6 مئی تک اپنے نام واپس لے سکیں گے۔ ووٹنگ 17 مئی کو صبح 7 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ای وی ایم کے ذریعے ہوگی۔ میونسپل کونسلوں اور نگر پنچایتوں کے نتائج کا اعلان ایک ہی دن کیا جائے گا، جبکہ میونسپل کارپوریشنوں کے ووٹوں کی گنتی 31 مئی کو ہوگی۔ان انتخابات میں کل 3 لاکھ 60 ہزار 859 ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande