اے ایم یو کے پروفیسر کا قومی کانفرنس میں کلیدی خطاب
علی گڑھ, 03 مئی (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ میں منعقدہ قومی کانفرنس بعنوان ”ری امیجننگ انڈیا اینڈ بیونڈ: نیریٹیوز آف بیلونگنگ، ڈائیورسٹی اور کوایگزسٹنس اِن لٹریچر اینڈ سنی
کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے


علی گڑھ, 03 مئی (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی کے پروفیسر محمد عاصم صدیقی نے انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنؤ میں منعقدہ قومی کانفرنس بعنوان ”ری امیجننگ انڈیا اینڈ بیونڈ: نیریٹیوز آف بیلونگنگ، ڈائیورسٹی اور کوایگزسٹنس اِن لٹریچر اینڈ سنیما“میں کلیدی خطبہ پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر صدیقی نے ادب اور سنیما کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادبی متون کی نئی تعبیرات اور ان کی فلمی تشکیل نو ایک تخلیقی عمل ہے، جو نئے تناظرات میں نئے معانی پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے شیکسپیئر کے ڈرامے ”ہیملٹ“ کی ہندی سنیما اور ہالی وڈ میں ہونے والی مختلف پیشکشوں کا حوالہ دیتے ہوئے لارنس اولیویئر اور کشور ساہو کی نمایاں تعبیرات پر گفتگو کی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پارسی تھیٹر نے ہندوستان میں سنیما کی کہانی سازی کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پروفیسر صدیقی نے ہندوستانی ادب کی منتخب تخلیقات کا جائزہ بھی پیش کیا، جو وابستگی، تنوع اور بقائے باہمی کے ابھرتے ہوئے مباحث میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande