
رانچی،3مئی (ہ س)۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے مرکزی جنرل سکریٹری اور ترجمان سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ 2014 میں مہنگائی کے خلاف جو نعرے لگائے گئے تھے وہ اب بدل چکے ہیں۔ خوراک، توانائی اور سفری کرایوں میں پچھلے 12 سالوں میں دو سے ڈھائی گنا اضافہ ہوا ہے۔ کمرشیل گیس سلنڈر کی قیمت 950 روپے سے بڑھ کر 2000 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ہوٹل اور کیٹرنگ کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے لیکن حکومت بے پرواہ ہے۔ بھٹاچاریہ اتوار کو ہرمو میں مورچہ کے ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے جھارکھنڈ میں مہنگائی اور ریلوے سمیت کئی مسائل پر مرکزی حکومت کو گھیرے میں لیا اور مرکز کو سخت نشانہ بنایا۔ سپریو بھٹاچاریہ نے کہا کہ بڑھتی مہنگائی نے عام لوگوں پر بوجھ بڑھا دیا ہے۔ چھوٹے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں لوگ مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ یہ تشویشناک بات ہے لیکن حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ریلوے کے معاملے پر انہوں نے مرکزی حکومت پر جھارکھنڈ کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ملک کو بہت زیادہ ریونیو فراہم کرتی ہے، اس کے باوجود یہاں ریلوے کی حفاظت اور دیکھ بھال کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔
انہوں نے ناری شکتی وندن بل کا بھی جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنچایتوں، میونسپل باڈیز اور دیگر منتخب اداروں میں 33 فیصد ریزرویشن لاگو کیا جانا چاہئے۔ قبائلی شناخت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہیمنت سورین نے 2027 کی مردم شماری میں سرنا دھرم کوڈ کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا تھا جسے جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی برادری کے تشخص کا تحفظ ضروری ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اس مسئلے پر توجہ نہ دینا افسوسناک ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی