خواتین ریزرویشن بل پر موہن یادو کا اپوزیشن پر نشانہ، ملک گیر احتجاج کا اعلان
خواتین ریزرویشن بل پر موہن یادو کا اپوزیشن پر نشانہ، ملک گیر احتجاج کا اعلان بھوپال، 19 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں اتوار کو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے پارلیمنٹ می
بی جے پی ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو


خواتین ریزرویشن بل پر موہن یادو کا اپوزیشن پر نشانہ، ملک گیر احتجاج کا اعلان

بھوپال، 19 اپریل (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں اتوار کو وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ہونے والے واقعات کو ’’قابلِ مذمت اور تکلیف دہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کے ساتھ ناانصافی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے پوری ریاست میں احتجاج اور ’’ناری شکتی وندن پدیاترا‘‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

وہ آج بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اس وقت ایک فیصلہ کن دور سے گزر رہی ہے اور پارلیمنٹ میں جو واقعات دیکھنے کو ملے، وہ بے حد افسوسناک ہیں۔ انہوں نے جذباتی تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’دروپدی کی بے حرمتی (چیر ہرن) کے بارے میں تو ہم نے 5000 سال پہلے سنا تھا، لیکن آج پارلیمنٹ میں بہنوں کی عزت کے ساتھ جس طرح کا برتاو ہوا، وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بل کے بارے میں شروع سے ہی تمام جماعتوں کو تجاویز دینے کا موقع دیا۔

وزیر اعلیٰ ڈاکٹر یادو نے بتایا کہ وزیر اعظم نے تمام جماعتوں کو کھلا خط لکھ کر بحث کے لیے مدعو کیا تھا، تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں ملا۔ اس کے باوجود اپوزیشن کے رویے کو انہوں نے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ اس دوران بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال، قومی نائب صدر ریکھا ورما، مدھیہ پردیش حکومت کی کابینہ وزیر نرملا بھوریا، ریاستی حکومت کی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) محترمہ کرشنا گور، پارٹی کی ریاستی ترجمان و رکن اسمبلی ارچنا چٹنیس، راجیہ سبھا ممبر مایا نارولیا، مہیلا مورچہ کی ریاستی صدر اشونی پرانجپے اور میڈیا انچارج آشیش اگروال بھی موجود تھے۔

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ خواتین ریزرویشن کے معاملے پر اب بی جے پی حکومت اور تنظیم عوام کے درمیان جائے گی۔ پیر سے ’’ناری شکتی وندن پدیاترا‘‘ شروع کی جائے گی، جو پوری ریاست میں مرحلہ وار طریقے سے نکالی جائے گی۔ اس کے تحت تمام اضلاع میں مظاہرے ہوں گے اور مقامی اداروں، میونسپل کارپوریشن، میونسپل کونسل اور نگر پنچایت میں مذمتی قراردادیں پاس کی جائیں گی۔

اس کے ساتھ ہی وزیر اعلیٰ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر اسمبلی کا ایک روزہ خصوصی اجلاس بلانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں تفصیلی بحث اور مذمتی قرارداد لائی جائے گی۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے اور سیاسی مفاد کے باعث اس مسئلے کو الجھا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2023 میں جس ایکٹ کی تمام جماعتوں نے حمایت کی تھی، اب اسی پر اپوزیشن کا رخ بدل گیا ہے۔ ’’جب انتخابات قریب تھے، تب حمایت کی گئی اور اب جب وقت ہے تو مخالفت کی جا رہی ہے۔ یہ افسوسناک ہے۔‘‘

انہوں نے کانگریس کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے پہلے بھی خواتین سے متعلق مسائل، جیسے تین طلاق پر غلط رخ اپنایا تھا۔ ایک طرح سے کانگریس نے خواتین کے حقوق کی مسلسل ان دیکھی کی ہے۔ شمال-جنوب تنازعہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسے بلاوجہ ہوا دی جا رہی ہے۔ ’’1971 میں ملک کی آبادی تقریباً 55 کروڑ تھی، جو اب 140 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ایسے میں سیٹوں کا بڑھنا فطری ہے اور اس کا فائدہ پورے ملک کو ملے گا ہی، اس میں کسی کو کوئی شک ہونا ہی نہیں چاہیے۔‘‘ دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال نے اپوزیشن پر خواتین مخالف ذہنیت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ملک کی آدھی آبادی سے متعلق اہم معاملے پر اپوزیشن کا رویہ مایوس کن رہا۔

بی جے پی کی قومی نائب صدر ریکھا ورما نے کہا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ پر 16 اور 17 اپریل کو پارلیمنٹ میں بحث ہوئی تھی، لیکن اپوزیشن نے اس کی حمایت نہیں کی۔ اس دوران ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 70 سال سے ملک کی خاتون اپنے حق کی لڑائی لڑ رہی تھی اور 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کر رہی ہے، جو اسے اب تک نصیب نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے سیاسی وجوہات کی بنا پر حمایت کی گئی اور اب مخالفت کی جا رہی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande