مغربی ایشیا کی صورتحال کے درمیان ایندھن کی سپلائی معمول پر، بحری جہازوں پر فائرنگ پر ایران سے تشویش کا اظہارکیا گیا: مرکز
نئی دہلی، 19 اپریل (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ملک میں پٹرول، ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی معمول پر ہے اور شہریوں کو گھبراہٹ (پینک)میں خریداری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ،
INDIA-FUEL-SUPPLY-NORMAL-WEST-ASIA-SITUATION-CENTR


نئی دہلی، 19 اپریل (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود ملک میں پٹرول، ڈیزل اور کھانا پکانے والی گیس کی سپلائی معمول پر ہے اور شہریوں کو گھبراہٹ (پینک)میں خریداری کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ، دو ہندوستانی جہازوں پر ہوئی گولہ باری کے حوالے سے ہندوستان نے ایرانی سفیر کو بھی طلب کرکے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ حکومت نے کہا کہ توانائی کی فراہمی، سمندری آپریشنز اور ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

وزارت پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مطابق ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔ وزارت شہریوں کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ صرف سرکاری معلومات پر بھروسہ کریں، افواہوں سے گریز کریں اور ایل پی جی بکنگ کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کریں۔

وزارت کے مطابق، گھریلو ایل پی جی کی سپلائی کو ترجیح دی گئی ہے اور ملک بھر میں سپلائی معمول کے مطابق ہے۔ 18 اپریل کو 53.5 لاکھ سے زیادہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی کی گئی۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرس کے پاس کہیں بھی کمی کی صورتحال نہیں ہے اور آن لائن بکنگ کا تناسب بڑھ کر 98فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت نے بتایا کہ کمرشیل ایل پی جی کی سپلائی ان کی سابقہ سطح کے تقریباً 70 فیصد پر بحال ہو چکی ہے، جبکہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور صنعتی شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ تارکین وطن مزدوروں کے لیے 5 کلو گرام چھوٹے سلنڈروں کی سپلائی کو دوگنا کر دیا گیا ہے اور ملک بھر میں بیداری کیمپ لگائے جا رہے ہیں۔

قدرتی گیس کے شعبے میں بھی سپلائی معمول پر ہے اورگھریلو پی این جی اور ٹرانسپورٹ شعبے میں سی این جی صارفین کو 100 فیصد فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ مارچ 2026 سے اب تک 4.85 لاکھ سے زیادہ نئے پی این جی کنکشن فعالکیے گئے ہیں، جبکہ 39 ہزار سے زیادہ صارفین ایل پی جی کنکشن سے پی این جی میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

وزارت نے کہا کہ تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا مناسب ذخیرہ دستیاب ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی خوردہ سپلائی معمول کے مطابق ہے اور قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ صارفین کو راحت فراہم کرنے کے لیے حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں بھی 10 روپے فی لیٹر کمی کی ہے۔

حکومت مغربی ایشیا میں سمندری راستوں کی حفاظت کے حوالے سے بھی مستعد ہے۔ ہندوستانی پرچم والے خام تیل کے ٹینکر ”دیش گرما“ 31 ہندوستانی سمندر رساں کے ساتھ آبنائے ہرمز کو بحفاظت پار کر چکا ہے اور 22 اپریل کو ممبئی پہنچنے کا امکان ہے۔ دریں اثنا ،ہندوستان نے ایرانی سفیر کو طلب کرکے دو ہندوستانی جہازوں پر فائرنگ کے واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکومت نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف ملک گیر کارروائی جاری ہے۔ 18 اپریل کو 2,400 سے زیادہ چھاپے مارے گئے، جبکہ عوامی شعبے کی تیل کمپنیوں نے کئی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف تعزیری کارروائی کی ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ خلیجی خطے میں ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ 28 فروری سے، تقریباً 10.97 لاکھ مسافر مختلف ممالک سے ہندوستان واپس آئے ہیں اور ہندوستانی مشن چوبیس گھنٹے مدد فراہم کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande