مصنوعی ذہانت صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں بلکہ ایک انسانی انقلاب ہے: نائب صدر جمہوریہ
نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س)۔ نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بدھ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں ہے بلکہ ایک انسانی انقلاب ہے جسے اچھی حکمرانی اور جامع معاشروں کی تعمیر کے لیے ذمہ داری اور وزن کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے
مصنوعی ذہانت صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں بلکہ ایک انسانی انقلاب ہے: نائب صدر جمہوریہ


نئی دہلی، 15 اپریل (ہ س)۔

نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے بدھ کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) صرف ایک تکنیکی انقلاب نہیں ہے بلکہ ایک انسانی انقلاب ہے جسے اچھی حکمرانی اور جامع معاشروں کی تعمیر کے لیے ذمہ داری اور وزن کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔نائب صدر انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) کے 72 ویں یوم تاسیس کی تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے 'اے آئی فار گڈ گورننس' کے موضوع پر 5 واں ڈاکٹر راجندر پرساد سالانہ میموریل لیکچر بھی دیا۔پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی سادگی، ایمانداری اور عوامی خدمت کی اقدار کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی حکمرانی طاقت نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج دنیا مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں مشینیں سیکھ رہی ہیں اور نظام سوچ رہے ہیں۔ اے آئی حکومتوں کو شہریوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے اور خدمات کو زیادہ مو¿ثر طریقے سے فراہم کرنے کی صلاحیت دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت 2047 تک ترقی یافتہ ہندوستان کے ہدف کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اے آئی حکمرانی کو تیز تر، شفاف اور جوابدہ بنا رہا ہے، اور اسکیموں کے فوائد کو آخری شخص تک پہنچانے میں مدد کر رہا ہے۔ملک کی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک جامع حکمرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال کر رہا ہے۔ 'بھاشنی' جیسے مصنوعی ذہانت پر مبنی زبان کے پلیٹ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لسانی رکاوٹوں کو دور کر رہا ہے۔صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ٹی بی اسکریننگ، پورٹیبل ایکس رے اور ٹیلی میڈیسن پلیٹ فارم 'ای سنجیو نی' کے ذریعے صحت کی خدمات دور دراز کے علاقوں تک پہنچ رہی ہیں۔انہوں نے نوجوانوں سے اے آئی اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اخلاقیات، شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ اے آئی کا استعمال معاشرے کو زیادہ منصفانہ، جامع اور حساس بنانے کے لیے کیا جانا چاہیے۔مرکزی وزیر اور چیئرمین، ایگزیکٹو کونسل، آئی آئی پی اے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ، ڈائریکٹر جنرل، آئی آئی پی اے، ڈاکٹر سریندر کمار باگڈے، اور ممتاز مہمان، فیکلٹی ممبران اور شرکاء اس موقع پر موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande