
نئی دہلی، 16 اپریل (ہ س)۔ مرکزی حکومت آج پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ملک میں اہم تبدیلیاں لانے والے بل پیش کرے گی۔ یہ بل خواتین کے تحفظات (ریزرویشن) کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے موثر طریقے سے نافذ کرنے اور انتخابی حلقوں کی حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) سے متعلق ہیں۔ ان میں دستور (131 ویں ترمیم) بل 2026، حد بندی بل 2026 اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے قانون (ترمیم) بل 2026 شامل ہیں۔ دستور (131 ویں ترمیم) بل 2026 ایک اہم قانون سازی کی تجویز ہے، جس کا مقصد لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے تحفظات (33 فیصد) کو نافذ کرنے کے لیے حلقہ بندیوں کے عمل کو فعال کرنا ہے۔
حکومت نے ’ناری شکتی وندن ادھینیم‘ میں ترامیم منظور کرنے کے لیے 16، 17 اور 18 اپریل کو خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ حکومت کا مقصد ناری شکتی وندن ادھینیم (2023) کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانا ہے۔ اس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد تحفظات کا انتظام کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ اپوزیشن خواتین کے تحفظات کی مخالفت نہیں کرے گی۔
لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافے کے لیے حلقہ بندیوں کی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراو ہونا طے مانا جا رہا ہے۔ جنوبی ریاستوں کو خدشہ ہے کہ آبادی پر قابو پانے میں بہتر کارکردگی کی وجہ سے نئی حلقہ بندیوں میں ان کی لوک سبھا نشستیں کم ہو سکتی ہیں۔ حکومت نے اس خدشے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نشستوں میں اضافہ ہر ریاست کے لیے یکساں طور پر 50 فیصد ہوگا۔ لوک سبھا میں نشستوں کی زیادہ سے زیادہ حد 850 طے کی گئی ہے اور کسی بھی ریاست کی نشستوں میں کٹوتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حکومت نے کہا کہ 1976 کے بعد سے لوک سبھا کی نشستوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ اس لیے واضح اور نئی حلقہ بندی وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ حلقہ بندیوں کا عمل آخری شائع شدہ مردم شماری (2011) کی بنیاد پر مکمل کیا جائے گا۔ ریاستوں کے لیے نشستوں کی تعداد (مستقل طور پر) طے نہیں ہے۔ ہر ریاست کے لیے حد بندی کمیشن بنے گا۔ کمیشن ریاست کی تمام جماعتوں سے بات چیت کے بعد نشستوں کا حتمی فیصلہ کرے گا۔
آج لوک سبھا میں تینوں بلوں پر بحث ہوگی، جس کے لیے 18 گھنٹے کا وقت طے ہے۔ 17 اپریل کو ووٹنگ کے ساتھ لوک سبھا میں یہ عمل مکمل ہوگا۔ 18 اپریل کو لوک سبھا سے منظوری کے بعد اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا، جہاں 10 گھنٹے کی بحث کے بعد ووٹنگ ہوگی۔ قابلِ ذکر ہے کہ موجودہ لوک سبھا میں 543 نشستیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن