ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، مسئلہ تیزی سے حل نہیں ہو سکتا : وینس
واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران بھی یہی خواہش رکھتا ہے۔ بدھ کے روز جارجیا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی تص
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، مسئلہ تیزی سے حل نہیں ہو سکتا : وینس


واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران بھی یہی خواہش رکھتا ہے۔

بدھ کے روز جارجیا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ مستحکم ہے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی چھوٹے معاہدے کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ ایک ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو اپنی تنظیموں کی مالی معاونت سے روکے اور اس میں تمام تصفیہ طلب معاملات شامل ہوں۔وینس نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ مسائل اتنی تیزی سے حل نہیں کیے جا سکتے، خاص طور پر جب امریکہ اور ایران کے درمیان بد اعتمادی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مذاکرات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

اس کے باوجود وینس نے موجودہ صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جس ایرانی وفد سے انہوں نے مذاکرات کیے وہ معاہدہ کرنے کا خواہش مند تھا۔ ان کا اشارہ بظاہر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے ساتھیوں کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران ایک نارمل ریاست کی طرح برتاو¿ کرنے کے لیے تیار ہے تو امریکہ بھی اس کے ساتھ معاشی طور پر ایک نارمل ریاست کی طرح پیش آئے گا۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب با خبر ذرائع نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے سے قبل ایک اور براہ راست ملاقات طے پاتی ہے، تو توقع ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والے ان ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کی قیادت کریں گے۔ذرائع کے مطابق سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ اس ممکنہ دوسرے اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کی شرکت بھی متوقع ہے، جو جنگ شروع ہونے سے قبل ہی سفارتی مذاکرات کی سربراہی کر رہے تھے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تین سینئر مشیروں کو جنگ کے سفارتی حل کی تلاش کا کام سونپا ہے اور وہ اب بھی ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں۔ جے ڈی وینس، وٹکوف اور کشنر نے ہفتے کے روز ہونے والے 21 گھنٹے طویل طویل ترین اجلاس کے بعد کے دنوں میں بھی معاہدے کے حصول کی کوششوں کے سلسلے میں ایرانیوں اور ثالثوں سے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی بدھ کے روز مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیار ہے اور اگر مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوتا ہے تو ان کی ترجیح پاکستان ہی ہو گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande