
واشنگٹن، 16 اپریل (ہ س)۔ عالمی بینک نے عالمی آبی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک پرجوش منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ ’’واٹر فارورڈ‘‘ نامی اس پروگرام کا مقصد اگلے چار برسوں میں ایک ارب لوگوں کو محفوظ اور قابلِ اعتماد پانی فراہم کرنا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق، اس پہل کے تحت پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خشک سالی اور سیلاب جیسی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ بینک نے بتایا کہ وہ اپنی مالی امداد اور تکنیکی مہارت کے ذریعے سال 2030 تک تقریباً 40 کروڑ لوگوں تک پانی کی بہتر سہولیات پہنچانے میں مدد کرے گا، جبکہ باقی امداد شراکت دار اداروں کے تعاون سے دی جائے گی۔
اس پروگرام میں کئی بین الاقوامی ادارے شامل ہوں گے، جن میں علاقائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی ترقی کے لیے اوپیک فنڈ اور نیو ڈیولپمنٹ بینک جیسے ادارے بھی شامل ہوں گے۔ تاہم، اس پہل کے لیے کل سرمایہ کاری کی رقم کا انکشاف ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
عالمی بینک نے کہا کہ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی، یعنی تقریباً چار ارب لوگ، پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے پیچھے کمزور پالیسیاں، ناکافی قوانین اور مالی طور پر غیر مستحکم پانی کی فراہمی کے نظام اہم وجوہات ہیں، جو سرمایہ کاری اور اصلاحات کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔
فی الحال 14 ممالک نے اس پروگرام کے تحت اپنے آبی شعبے میں اصلاحات کرنے اور اسے مضبوط بنانے کا عہد کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف بنیادی ڈھانچے کے بجائے طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات پر توجہ دینا اس پہل کی خاصیت ہے۔
ماہر ڈیوڈ مشیل نے اسے مثبت قدم قرار دیا، لیکن ساتھ ہی انتباہ دیا کہ اس منصوبے کو نافذ کرنے میں کئی چیلنجز سامنے آ سکتے ہیں۔
عالمی بینک کا ماننا ہے کہ مضبوط آبی نظام نہ صرف لوگوں کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتا ہے، بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کی فراہمی کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن