امریکی صدرٹرمپ کا دعویٰ، ایران کی جنگ جلد ختم ہونے والی ہے
واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ بدھ کے روز فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، لیکن ان کے ا
ایرانی یورینیم کے معاملے سے ’بھرپور طریقے سے‘ نمٹا جائے گا : ٹرمپ


واشنگٹن،15اپریل(ہ س)۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ بدھ کے روز فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ مداخلت نہ کرتے تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار حاصل کر چکا ہوتا، لیکن ان کے اقدامات نے تہران کو اس مقصد سے روک دیا ہے۔ انہوں نے 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، تاہم فوجی کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

وائٹ ہاو¿س کے معاشی مشیر کیون ہیسٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران معاہدے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ دنیا کے لیے بہترین ہوگا، بصورتِ دیگر معاشی محاصرے کی صورت میں دنیا اسے پیچھے چھوڑ دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا معاشی محاصرہ اگلے 100 سالوں کے لیے امریکی طاقت کے توازن کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے اور موجودہ صورت حال میں جیت ہر حال میں امریکہ ہی کی ہو گی۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جارجیا یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے جو محض ایٹمی پروگرام تک محدود نہ ہو بلکہ اس میں ایران کی جانب سے اپنی مسلح تنظیموں کی مالی معاونت روکنے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل شامل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ برقرار ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔ وینس نے ایرانی وفد (جس میں محمد باقر قال?باف اور عباس عراقچی شامل تھے) کے رویے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران ایک نارمل ریاست کی طرح برتاو¿ کرنے پر تیار ہو جائے تو امریکہ اس کے ساتھ معاشی سطح پر معمول کے مطابق تعلقات استوار کرے گا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک اور انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا اگلا دور آئندہ دو روز میں پاکستان میں متوقع ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ تہران کے ساتھ بات چیت میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کر رہا ہے تاکہ 28 فروری کو شروع ہونے والی اور 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی پر ختم ہونے والی 40 روزہ جنگ کے بعد مستقل امن قائم کیا جا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے طویل وقت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande